بےنظیر قتل کیس: آئی ایس آئی اہلکار گواہی دینے سے انکاری

،تصویر کا ذریعہAFP PHOTO AAMIR QURESHI
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے ایک اہلکار نے اپنا بیان ریکارڈ کروانے سے انکار کر دیا ہے۔
بےنظیر بھٹو قتل کے مقدمے کی سماعت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ہوئی جس میں محمد اسماعیل نامی آئی ایس آئی کے اہلکار کو بطور سرکاری گواہ پیش کیا گیا تھا۔ تاہم انھوں نے عدالت میں گواہی دینے سے انکار کر دیا۔
سرکاری پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ محمد اسماعیل کا تعلق اس مقدمے کے مرکزی ملزم اور تحریک طالبان پاکستان کے سابق رہنما بیت اللہ محسود کے قریبی گاؤں سے ہے، جس کی وجہ سے اس بات کا امکان بھی موجود ہے کہ شاید محمد اسماعیل نے اپنی جان کو درپیش ممکنہ خطرے کے پیشِ نظر گواہی دینے سے انکار کیا ہو۔
واضح رہے کہ محمد اسماعیل آئی ایس آئی میں ٹیلی فون آپریٹر تھے اور بےنظیر بھٹو کے قتل کے بعد بیت اللہ محسود کی جانب سے اپنے دوسرے ساتھی کو کی گئی مبارک باد کی مبینہ فون کال انھی نے ریکارڈ کی تھی۔
اس مقدمے کے دوسرے اہم گواہ امریکی شہری مارک سیگل کا بیان ریکارڈ کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں وفاقی سیکریٹری داخلہ چار جون کو عدالت کو آگاہ کریں گے۔
خیال رہے کہ پاکستان کی سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت نے وزارت داخلہ اور راولپنڈی کی انتظامیہ کو امریکی شہری مارک سیگل کا بیان ریکارڈ کرنے کا حکم دیا تھا۔
عدالت نے کہا تھا کہ ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرنے کے انتظامات مکمل کیے جائیں۔
یاد رہے کہ بےنظیر بھٹو نے اپنے آخری ایام میں امریکی شہری مارک سیگل کو ای میل اور خطوط لکھے تھے جن میں کہا تھا کہ کہ اُنھیں (بےنظیر بھٹو) اس وقت کے فوجی صدر پرویز مشرف سے جان کا خطرہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پرویز مشرف بھی بےنظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں ملزم ہیں اور ان پر فرد جرم عائد ہو چکی ہے، تاہم اُنھوں نے صحت جرم سے انکار کیا ہے۔







