مارک سیگل کا بیان ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کروانے کا حکم

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت نے وزارت داخلہ اور راولپنڈی کی انتظامیہ کو امریکی شہری مارک سیگل کا بیان ریکارڈ کرنے کا حکم دیا ہے ۔
عدالت نے کہا ہے کہ ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرنے کے انتظامات مکمل کیے جائیں۔
راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نے یہ حکم استغاثہ کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر دیا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس مقدمے کے اہم گواہ مارک سیگل سکیورٹی وجوہات کی بنا پر پاکستان نہیں آ رہے اس لیے ان کا بیان ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کر لیا جائے۔
<link type="page"><caption> بےنظیر قتل مقدمے میں مارک سیگل طلب</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/12/121215_benazir_murder_case_mb" platform="highweb"/></link>
انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج ایوب مارتھ نے بے نظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کی سماعت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں کی۔ راولپنڈی کی انتظامیہ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اس ضمن میں انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
جس کے مطابق امریکی شہری کا بیان ریکارڈ کرنے کے لیے کمشنر آفس میں انتظامات کیے گئے ہیں اور اس مقدمے کی آنندہ سماعت کمشنر آفس میں ہو سکتی ہے۔
عدالت نے وزارت داخلہ کو حکم دیا ہے کہ وہ اس ضمن میں پاکستان میں امریکی سفارت خانے سے رابطہ کرے اور سفارت خانے کا ایک اہلکار اس وقت کمرہ عدالت میں موجود ہو، جس وقت مارک سیگل کا بیان ریکارڈ کیا جا رہا ہو۔
عدالت نے وفاقی حکومت کو یہ بھی حکم دیا ہے کہ وہ اس بارے میں امریکہ میں پاکستانی سفارت خانے کے ساتھ بھی رابطہ کرے اور اُسے اس ضمن میں ممکنہ اقدامات کرنے کے ہدایت کرے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو نے اپنے آخری ایام میں امریکی شہری مارک سیگل کو ای میل اور خطوط لکھے تھے جن میں کہا تھا کہ کہ اُنھیں (بےنظیر بھٹو) اس وقت کے فوجی صدر پرویز مشرف سے جان کا خطرہ ہے۔
واضح رہے کہ پرویز مشرف بےنظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں ملزم ہیں اور ان پر فرد جرم بھی عائد ہو چکی ہے، تاہم اُنھوں نے صحت جرم سے انکار کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP PHOTO AAMIR QURESHI
سابق فوجی صدر پرویز مشرف اس مقدمے میں ضمانت پر ہیں جبکہ اس مقدمے میں پانچ ملزمان اس وقت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ہیں۔
قانونی ماہرین مارک سیگل کے بیان پر راضی ہونے کو بڑی اہمیت دے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اُن کے بیان کی روشنی میں اس قتل میں پرویز مشرف کے کردار پر روشنی پڑے گی۔







