سرکاری وکیل قتل کیس میں ملزم کی ضمانت منظور

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سابق وفاقی وزیر شہباز بھٹی اور سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو کے مقدمے میں سرکاری وکیل چوہدری ذوالفقار علی کے قتل کے الزام میں گرفتار ملزم کی ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے انھیں رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے ملزم کی ضمانت طبی بنیادوں پر منظور کی ہے۔
مقامی پولیس کے مطابق ملزم عبداللہ عمر ایک مقامی یونیورسٹی میں طالب علم تھے جبکہ ان کے والد کرنل کے عہدے سے ریٹائر ہوئے ہیں۔
اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج عتیق الرحمنٰ نے ملزم کی ضمانت سے متعلق دائر ہونے والی درخواست کی سماعت کی تو ملزم کے وکیل بشارت اللہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل کو کمر میں گولی لگی تھی اور اس کی وجہ سے وہ چلنے پھرنے سے قاصر ہیں۔
یاد رہے کہ سابق وزیراعظم بےنظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں سرکاری وکیل چوہدری ذوالفقار کے قتل کے موقعے پر ان کے سکیورٹی گارڈ کی طرف سے فائرنگ کے نتیجے میں ملزم عبداللہ عمر کی کمر میں گولی لگی تھی، تاہم ان کےساتھی ملزم کو گاڑی میں ڈال کر راولپنڈی کے ہسپتال لے گئے تھے جہاں پر وہ کچھ عرصہ زیر علاج رہے۔ پولیس نے انھیں ہسپتال سے ہی گرفتار کیا تھا۔
ملزم کے وکیل بشارت اللہ نے کہا کہ ڈاکٹروں نے ان کے موکل کے کچھ میڈیکل ٹیسٹ لکھ کر دیے تھے لیکن اڈیالہ جیل کے ہسپتال میں میڈیکل ٹیسٹ کروانے کی سہولت نہیں ہے اس لیے ان کے موکل کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے ضمانت کی درخواست منظور کی جائے۔
اس مقدمے کے سرکاری وکیل نے درخواست ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اتنے اہم مقدمات کے ملزم کی ضمانت منظور نہ کی جائے کیونکہ اس کے بیرون ملک فرار ہونے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ اگر ملزم کی ضمانت منظور کی گئی تو ان اہم مقدمات کی تفتیش میں کوئی پیش رفت نہیں ہوگی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
عدالت نے سرکاری وکیل کے دلائل سے اتفاق نہیں کیا اور ملزم کی ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے انھیں دس دس لاکھ روپے کے چار ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔
اس کے علاوہ ملزم عبداللہ عمر کا پاسپورٹ بھی عدالت میں جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔
یاد رہے کہ اسلام آباد پولیس نے سابق وفاقی وزیر شہباز بھٹی کے مقدمے میں اب تک تین ملزمان کو گرفتار کیا ہے لیکن تمام ملزمان عدم ثبوت کی بنا پر رہا ہوگئے تھے۔ ان ملزمان میں سے ایک کو دوبئی سے گرفتار کر کے واپس لایا گیا تھا۔
ملزم عبداللہ عمر کے وکیل بشارت اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس نے جان بوجھ کر ان کے موکل کو شہباز بھٹی کے قتل کے مقدمے میں ملوث کیا ہے جبکہ ان کے پاس شواہد موجود نہیں ہیں۔
انھوں نے کہا کہ پولیس کی طرف سے عدالت میں پیش کیے جانے والے اس مقدمے کے چالان میں کہیں پر بھی عبداللہ عمر کے ملوث ہونے کا ثبوت نہیں ہے۔







