چوہدری ذوالفقار علی کو ہلاکت سے پہلے دھمکیاں

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والے چوہدری ذوالفقار علی نے جب سابق وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کی بحثیت سرکاری وکیل کی پیروی شروع کی تو اُنہیں مختلف اوقات میں دھمکیاں ملتی رہی ہیں کیونکہ اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے پانچ ملزمان کا تعلق کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان سے بتایا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ اُنہیں ممبئی حملہ سازش تیار کرنے کے مقدمے سے علیحدہ نہ ہونے پر بھی مختلف نامعلوم افراد کی طرف سے تسلسل کے ساتھ دھمکیاں ملتی رہی ہیں۔
ان دھمکیوں میں شدت اُس وقت آئی جب سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو گرفتار کیا گیا۔
چھبیس اپریل کو جب پرویز مشرف کا بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں جسمانی ریمانڈ لیا گیا تو اُس کے بعد نجی محفل میں چوہدری ذوالفقار علی نے اس بات کا انکشاف کیا کہ اُنہیں مختلف نامعلوم افراد کی طرف سے ملنے والی دھمکیوں میں شدت آگئی ہے جس میں یہ بھی کہا جارہا تھا کہ وہ اس مقدمے سے الگ ہو جائیں ورنہ اُنہیں قتل کردیا جائے گا۔
اگلی سماعت پر یعنی تیس اپریل کو راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں جاتے وقت اُنہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اُنہیں گھر سے نکلتے ہوئے ایک کال موصول ہوئی کہ وہ آج عدالت میں نہ جائیں کیونکہ وہاں پر بم رکھا ہوا ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔
چوہدری ذوالفقار علی نے اس کال کو پہلے تو محض ایک مذاق ہی سمجھا بعدمیں اُنہوں نے اس کو سنجیدگی سے لینا شروع کردیا۔ اُنہوں نے اس معاملے کو ایف آئی اے کے حکام کے سامنے بھی اُٹھایا جنہوں نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے اُنہیں ایک گارڈ فراہم کردیا۔ چوہدری ذوالفقار کے چیمبر میں کام کرنے والے لوگوں کے بقول اُس گاڑڈ کے پاس بندوق تک نہیں تھی البتہ یہ گارڈ ڈرائیور کی ذمہ داریاں بھی ادا کرتا تھا۔
چوہدری ذوالفقار نہ صرف سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کی پیروی کر رہے تھے بلکہ اس کے علاوہ دیگر حساس نوعیت کے مقدمات میں بھی سرکاری وکیل تھے جن میں ممبئی حملہ سازش کیس، حج انتظامات کے علاوہ راولپنڈی میں فوج کے ہیڈ کوراٹر پر حملہ اور ایفڈرین کیس میں بھی سرکاری وکلاء کی معاونت شامل ہیں۔
ممبئی حملہ سازش تیار کرنے کے مقدمے میں ذکی الرحمن لکھوی سمیت گرفتار ہونے والے افراد کا تعلق کالعدم تنظیم لشکر طیبہ سے ہے اس کے علاوہ اس مقدمے میں اشتہاری قرار دیے گئے بارہ افراد کا تعلق بھی اسی تنظیم سے ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چوہدری ذوالفقار اُس عدالتی کمیشن کے سربراہ بھی تھے جس نے اُن چار بھارتی اہلکاروں کے بیانات قلمبند کیے تھے جنہوں نے ممبئی حملوں میں موت کی سزا پانے والے اجمل قصاب کے بیان قلمبند کیے تھے۔ ان بھارتی اہلکاروں پر جرح نہیں کی گئی تھی اس لیے ان اہلکاروں پر جرح کرنے کے لیے عدالتی کمیشن نے جلد ہی بھارت کا دورہ کرنا تھا۔
تفتیشی ماہرین کا کہنا ہے کہ چوہدری ذوالفقار کو اس طریقے سے راستے سے ہٹایا گیا ہے کہ اس معاملے میں ایک سے زیادہ فریق کی طرف اُنگلیاں اُٹھ رہی ہیں۔ ایک تو کسی حد تک خفیہ اداروں کی طرف چونکہ پرویز مشرف فوج کے سابق سربراہ بھی رہے ہیں جبکہ دوسرا کالعدم تنظیموں کی طرف بھی اُٹھ رہی ہیں۔ بینظیر بھٹو اور ممبئی حملہ سازش کیس میں گرفتار ہونے والے افراد کا تعلق بھی کالعدم تنظیموں سے ہے۔ ماہرین کے بقول ایسی صورت حال میں اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم کو اس کیس کی تحقیقات کرنے میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔
چوہدری ذوالفقار وفاقی تحقیقاتی ادارے سے ڈپٹی ڈائریکٹر لیگل کی حثیت سے ریٹائر ہوئے تھے اور سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے اُن کے ڈپٹی اٹارنی جنرل کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا تھا تاہم اُنہوں نے اُس وقت تک یہ عہدہ قبول کرنے سے انکار کردیا جب تک سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کا فیصلہ نہیں ہوجاتا۔
گُزشتہ پانچ سال میں اس مقدمے کا فیصلہ تو نہیں ہوسکا البتہ اب وہ مزید بحثیت سرکاری وکیل اس مقدمے کی پیروی نہیں کرسکیں گے۔۔







