بےنظیر کے قتل کا مقدمہ مصلحتوں کا شکار

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی دو مرتبہ وزیر اعظم بننے والی بےنظیر بھٹو کے قتل کا مقدمہ قانونی پیچیدگیوں سے زیادہ مصلحتوں کا شکار ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔
اس مقدمے کی سماعت کو شروع ہوئے سات سال ہونے کو ہیں اور اس دوران اس اہم مقدمے کی دو سو کے قریب سماعتیں ہو چکی ہیں لیکن بات ابھی تک اس مقدمے میں ملوث ملزمان پر فرد جُرم عائد کیے جانے اور چندگواہوں کے بیانات قلم بند کرنے سے آگے نہیں بڑھ سکی ہے۔
اب تک اس مقدمے میں وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کی طرف سے نوچالان پیش کیے جا چکے ہیں لیکن ابھی تک یہ مقدمہ اپنے منطقی انجام کو نہیں پہنچا۔ آخری مرتبہ اس مقدمے کا چالان ستمبر 2012 کو عدالت میں جمع کروایا گیا تھا۔
STYبےنظیربھٹو، قاتل بچ نکلابےنظیربھٹو، قاتل بچ نکلااقوامِ متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ ہیرالڈو میونوز کا وہ بیان جسے بےنظیربھٹو کےقتل کی تحقیقات پر حرفِ آخر قرار دیا جا رہا ہے۔2014-04-14T04:14:29+05:002014-04-14T04:14:39+05:00PUBLISHEDurtopcat2
اس مقدمے میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف اور دو پولیس افسران سمیت آٹھ افراد پر فرد جُرم عائد ہو چکی ہے۔
ملزم پرویز مشرف، ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس سعود عزیز اور ایس ایس پی خرم شہزاد کی ضمانتیں ہو چکی ہیں جبکہ دیگر پانچ ملزمان گذشتہ سات سال سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ہیں اور متعقلہ عدالت متعدد بار ان افراد کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر چکی ہے۔
سابق فوجی صدر پرویز مشرف اور پھر سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے دور حکومت میں بے نظیر بھٹو قتل کی تفتیش سکاٹ لینڈ یارڈ اور پھر اقوام متحدہ کے ماہرین سے کروائی جس پر سرکاری خزانے سے لاکھوں ڈالر خرچ کیے گئے لیکن یہ ادارے بھی ملک کی ایک بڑی جماعت کی لیڈر کے مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچانے میں کارگر ثابت نہیں ہوئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان اداروں کو 27 دسمبر 2007 کو ہونے والے اس واقعے سے متعلق بےنظیر بھٹو کی موت کے اسباب اور جائے حادثہ سے متعلق حقائق معلوم کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی جبکہ اس مقدمے میں ذمہ داروں کا تعین ملکی تفتیشی ادارے کرر ہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں اس مقدمے کی تفتیش پنجاب پولیس سے لے کر ایف آئی اے کو دے دی گئی جنھوں نے اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم کے سربراہ پنجاب پولیس کے ایڈشنل آئی جی چوہدری عبدالمجید کا نام اس بنیاد پر ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیا کہ اُنھوں نے اس مقدمے میں کسی کو وعدہ معاف گواہ کیوں نہیں بنایا۔
قانون کے مطابق جب مقتول کے ورثا تفتیشی ادارے کو لکھ کر دیتے ہیں کہ فلاں شخص وعدہ معاف گواہ بننے کے لیے تیار ہے تو پھر اس کو وعدہ معاف گواہ بنایا جاتا ہے جبکہ اس واقعے میں 25 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے اور کسی نے بھی پولیس یا ایف آئی اے کو اس ضمن میں ابھی تک تحریری بیان نہیں دیا۔
خود ایف آئی اے کی طرف سے اس مقدمے سےمتعلق عدالت میں پیش کیے جانے والے چالان میں کسی کو وعدہ معاف بنانے کا ذکر نہیں کیا۔
ایف آئی اے نے ابھی تک امریکی شہری مارک سیگل کو بھی عدالت میں پیش نہیں کیا جس کے بارے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بےنظیر بھٹو نے مذکورہ امریکی شہری کو ایک ای میل کے ذریعے بتایا تھا کہ اُنھیں اس وقت کے صدر پرویز مشرف نے سنگین نتائج کی دھمکیاں دی تھیں۔
فوجداری مقدمات کی پیروی کرنے والے وکیل سردار اسحاق کا کہنا ہے کہ پنجاب پولیس کی جانب سے اس مقدمے کی تفتیش کے دوران جن پانچ ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا اور ان سے متعلق حتمی چالان بھی انسداد دہشت گری کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا، اگر اُس وقت کی پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت اسی کو حتمی مانتی تو اب تک ان پانچ افراد کو عدالتوں کی طرف سے سزائیں بھی مل چکی ہوتیں۔
اُنھوں نے کہا کہ گذشتہ چھ سال کے دوران سابق حکومت اور پاکستان مسلم لیگ ن کی موجودہ حکومت نے پرویز مشرف اور دو پولیس افسران کو بےنظیر بھٹو کے قتل میں شریک جرم کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کیا۔
اُنھوں نے کہا کہ اس مقدمے کے فیصلے میں اب تک جتنی تاخیر ہو چکی ہے اس کا فائدہ صرف ملزمان کو پہنچے گا۔
سردار اسحاق کا کہنا تھا کہ اس اہم مقدمے میں گرفتار ہونے والے زیادہ افراد پر بےنظیر بھٹو پر خودکش حملہ کرنے والے شخص کی معاونت کرنے اور اُنھیں سہولت فراہم کرنے کا الزام ہے۔
پاکستان کی عدالتی تاریخ میں صرف سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو قتل کے مقدمے میں اعانت کرنے پر موت کی سزا دی گئی ہے اور یہ عدالتی فیصلہ آج بھی متنازع ہے۔
انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج ہونے والے مقدمات کی پیروی کرنے والے وکیل بشارت اللہ کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف کے دور میں محض ایک ٹیلی فون کال ٹریس کرنے کی بنیاد پر کالعدم تحریک طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود کو بےنظیر بھٹو کے قتل کا ماسٹر مائنڈ قرار دے دیا گیا جبکہ قانون شہادت میں آڈیو کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا جاتا۔
اُنھوں نے کہا کہ اس مقدمے میں استغاثہ فی الحال ایسے شواہد عدالت میں پیش کرنے میں ناکام رہا ہے جس سے ملزموں کو مجرم گردانتے ہوئے اُنھیں سزا دلوائی جا سکے۔
ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے کے مقدمے میں گرفتار ملزم ذکی الرحمٰن لکھوی کی ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی کی عدالت نے کہا ہے کہ اُن کی جو آواز ٹیلی فون پر تفتیشی اداروں نے ریکارڈ کی ہے اس پر بھی ان اہلکاروں کے شکوک و شبہات ہیں۔
بےنظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں گرفتار ہونے والے ملزم شیر زمان کے وکیل خرم قریشی کا کہنا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مقتولہ کے ورثا اس مقدمے کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ اُنھوں نےکہا کہ اگر بےنظیر بھٹو کے ورثا چاہیں تو اس مقدمے کا فیصلہ دو ماہ میں ہو سکتا ہے۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت 30 روز میں کسی بھی مقدمے کا فیصلہ کرنے کی پابند ہے لیکن قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ملک کی سابق وزیر اعظم کے قتل کا مقدمہ اسی رفتار سے چلتا رہا تو پھر ذمہ داروں کو منطقی انجام تک پہنچانے میں مزید کئی سال لگ سکتے ہیں







