بینظیر قتل: پیپلز پارٹی کی فریق بننے کی درخواست

پاکستان پیپلز پارٹی گزشتہ پانچ سال اقتدار میں رہی اور اس عرصے میں اس نے بینظیر بھٹو قتل کے مقدمے میں فریق بننے کے لیے درخواست نہیں دی
،تصویر کا کیپشنپاکستان پیپلز پارٹی گزشتہ پانچ سال اقتدار میں رہی اور اس عرصے میں اس نے بینظیر بھٹو قتل کے مقدمے میں فریق بننے کے لیے درخواست نہیں دی

پاکستان پیپلز پارٹی نے بینظیر بھٹو قتل کے مقدمے میں فریق بننے کے لیے متعقلہ عدالت میں ایک درخواست دائر ہے جس کی سماعت تین ستمبر کو ہوگی۔

سابق حکمراں جماعت نے اس مقدمے میں جنرل سیکرٹری سردار لطیف کھوسہ کو وکیل مقرر کیا ہے۔

سردار لطیف کھوسہ نے بی بی سی کو بتایا کہ فریق بننے کا فیصلہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے کیا ہے۔

انھوں نے کہ اس مقدمے میں فریق بن کر پاکستان پیپلز پارٹی اپنا موقف پیش کرے گی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی گزشتہ پانچ سال اقتدار میں رہی اور اس عرصے میں اس نے بینظیر بھٹو قتل کے مقدمے میں فریق بننے کے لیے درخواست نہیں دی۔

سابق حکمراں جماعت نے اس مقدمے کی تفتیش پنجاب پولیس سے لیکر وفاقی تحقیقاتی ادارے کو سپرد کی تھی جس نے پرویز مشرف کو ملزم نامزد کیا تھا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی سابق چیئرپرسن بے بنظیر بھٹو 27 دسمبر سنہ 2007 کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ایک خودکش حملے میں ہلاک ہوگئی تھیں اور ان کی موت کا مقدمہ ان کے کسی وارث کی جانب سے نہیں بلکہ متعقلہ تھانے کے انچارج انسپکٹر کاشف ریاض کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔

راولپنڈی پولیس کے اس وقت کے سربراہ اور بینظیر بھٹو قتل کے مقدمے کے ملزم سابق ڈی آئی جی سعود عزیز نے الزام عائد کیا تھا کہ بینظیر بھٹو کے شوہر صدر آصف علی زرداری نے مقتولہ کا پوسٹ مارٹم کرنے سے منع کیا تھا۔

بینظیر بھٹو کے قتل کا مقدمہ راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں زیر سماعت ہے اور اس مقدمے میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف سمیت آٹھ ملزمان ہیں۔

پرویز مشرف اور دیگر دو ملزمان ڈی آئی جی سعود عزیز اور ایس ایس پی خرم شہزاد ان دنوں ضمانت پر ہیں جبکہ دیگر پانچ ملزمان گزشتہ پانچ سال سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ہیں۔ پرویز مشرف سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کی جاچکی ہے۔

عدالت نے تین ستمبر سنہ 2013 کو راولپنڈی جنرل ہسپتال کے اُن ڈاکٹروں کو طلب کیا ہے جنہوں نے اس خودکش حملے میں زخمی ہونے والے افراد کو طبی امداد فراہم کی تھی۔