ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس کی گاڑی پر حملہ، دو ہلاک

 ڈیرہ اسماعیل خان میں رواں برس پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنائے جانے کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن ڈیرہ اسماعیل خان میں رواں برس پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنائے جانے کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں
    • مصنف, عزیزاللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں دو اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

پولیس کے مطابق بدھ کو رات گئے پیش آنے والے اس واقعے میں جوابی کارروائی میں ایک حملہ آور بھی مارا گیا ہے۔

مقامی پولیس نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ تحصیل درابن میں اس وقت پیش آیا جب پولیس کی گشتی پارٹی معمول کے گشت کے بعد واپس تھانے کی جانب جا رہی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جب یہ گاڑی کلی بختیار کے علاقے میں پہنچی تو وہاں ایک پل کے نیچے چھپے حملہ آوروں نے گاڑی پر حملہ کر دیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے گاڑی پر راکٹ داغا اور فائرنگ کی جس سے دو پولیس اہلکار ہلاک اور ایک اے ایس آئی سمیت دو زخمی ہوگئے۔

اس حملے کے بعد گاڑی میں سوار اہلکاروں نے جوابی فائرنگ بھی کی جس سے ایک حملہ آور بھی ہلاک ہوا جبکہ اس کے باقی ساتھی فرار ہونے میں کامیاب رہے۔

تاحال کسی تنظیم یا گروہ کی جانب سے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے۔

اس واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر چیکنگ بڑھا دی گئی ہے۔

خیال رہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں رواں برس پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنائے جانے کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں جن میں ایک ڈی ایس پی اور ایک ہیڈ کانسٹیبل بھی مارے گئے ہیں۔

ہنگو میں بلدیاتی امیدوار نشانہ

ادھر جمعرات کی صبح ضلع ہنگو میں زرگری کے علاقے میں ہونے والے دھماکے سے دو افراد زخمی ہوگئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ دھماکہ سڑک کنارے نصب بم کا تھا۔

مقامی اہلکار نے بتایا کہ جس وقت دھماکہ ہوا علاقے میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے سرگرمیاں جاری تھیں۔

دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد بھی بلدیاتی امیدوار بتائے جا رہے ہیں۔