ڈیرہ اسمٰعیل خان: ہیڈکانسٹیبل سمیت چار افراد ہلاک

پولیس کا کہنا تھا کہ قیصر جہاں انتہائی قابل پولیس اہلکار تھے اور انھوں نے ٹارگٹ کلنگ کے کئی واقعات کی کامیاب چھان بین کی تھی جس وجہ سے انھیں دھمکیاں موصول ہو رہی تھیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنپولیس کا کہنا تھا کہ قیصر جہاں انتہائی قابل پولیس اہلکار تھے اور انھوں نے ٹارگٹ کلنگ کے کئی واقعات کی کامیاب چھان بین کی تھی جس وجہ سے انھیں دھمکیاں موصول ہو رہی تھیں
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے پولیس کے ہیڈ کانسٹیبل کو دو بھائیوں اور ایک ساتھی سمیت ہلاک کر دیا ہے ۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ بعد مغرب ڈیرہ اسماعیل خان کے محلہ حیات اللہ میں پیش آیا۔ پولیس کے مطابق نامعلوم افراد نے اے ایس آئی قیصر جہاں کے گھر پر دستک دی اور ان پر گیٹ کے قریب فائرنگ کی۔

اس موقعے پر قیصر جہاں کے دو بھائی عنصر جہاں اور خرم جہاں کے علاوہ ان کے گھر پر کام کرنے والا مستری الطاف عرف کاکا موجود تھے۔ حملہ آوروں نے ان تینوں کو بھی فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔

اطلاعات کے مطابق قیصر جہاں کو کچھ عرصے سے دھمکیاں موصول ہو رہی تھیں۔ پولیس کے مطابق کچھ عرصہ پہلے تک قیصر جہاں کو سولڈر پروموشن دے کر اے ایس آئی تعینات کیا گیا تھا لیکن ان دنوں وہ پھر سے ہیڈ کانسٹیبل کے عہدے پر واپس آ گئے تھے۔

قیصر جہاں کچھ عرصے کے لیے پولیس لائن میں تعینات رہے ۔ ان کے بارے میں پولیس کا کہنا تھا کہ قیصر جہاں انتہائی قابل پولیس اہلکار تھے اور انھوں نے ٹارگٹ کلنگ کے کئی واقعات کی کامیاب چھان بین کی تھی جس وجہ سے انھیں دھمکیاں موصول ہو رہی تھیں۔

جس وقت یہ واقعہ پیش آیا اس وقت ان کے مکان میں مرمت کا کام ہو رہا تھا۔

پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ دو حملہ آور موٹر سائیکل پر آئے اور مکان کی دہلیز ہی سے فائرنگ شروع کر دی۔ موقعے سے نائن ایم ایم کی گولیاں ملی ہیں۔

ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ حملے کے وقت دستی بم بھی پھینکا گیا تھا لیکن پولیس نے اس کی تصدیق نہیں کی۔

اس حملے کے بعد علاقے میں سخت خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔