ڈیرہ اسماعیل خان میں ڈی ایس پی قتل

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس کو ان کے ساتھی سمیت قتل کر دیا ہے۔
پولیس اہلکاروں نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈیس ایس پی بہاول خان اپنے دوست ہارون کے ہمراہ موٹر سائیکل پر جا رہے تھے کہ اس دوران زنانہ ہستپال کے قریب موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم افراد نے ان پر فائرنگ کر دی۔
بہاول خان کو فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ گئے۔ کچھ ہی دیر بعد ان کا دوست بھی ہلاک ہو گیا۔ اس واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر چیکنگ بڑھا دی گئی ہے۔
پولیس حکام کے بقول ان کی کسی سے دشمنی نہیں تھی لیکن پولیس اہلکار اس علاقے میں اکثر دہشت گردوں کے نشانے پر رہتے ہیں۔
بہاول خان کی نمازِ جنازہ ساڑھے 11 بجے پولیس لائنز میں ادا کی جا رہی ہے۔ ان کا تعلق ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک مضافاتی علاقے ڈھلہ سے تھا۔
اس سے پہلے بھی پولیس اہلکاروں پر حملے ہو چکے ہیں۔ اسی سال جنوری میں قیصر جہاں نامی ایک ہیڈ کانسٹیبل کو ان کے دو بھائیوں اور ایک ساتھی سمیت ہلاک کر دیا گیا تھا۔ ان کے بارے میں پولیس کا کہنا تھا کہ قیصر جہاں انتہائی قابل پولیس اہلکار تھے اور انھوں نے ٹارگٹ کلنگ کے کئی واقعات کی کامیاب چھان بین کی تھی جس وجہ سے انھیں دھمکیاں موصول ہو رہی تھیں۔



