صولت مرزا کی پھانسی رکوانے کی درخواست مسترد

صولت مرزا کو 12 مئی کو پھانسی دینے کے لیے بلیک وارنٹ جاری کیے جا چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہbbc

،تصویر کا کیپشنصولت مرزا کو 12 مئی کو پھانسی دینے کے لیے بلیک وارنٹ جاری کیے جا چکے ہیں
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کے صوبہ سندھ کی ہائی کورٹ نے متحدہ قومی موومنٹ کے سابق کارکن صولت مرزا کی پھانسی رکوانے اور کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے سابق مینیجنگ ڈائریکٹر شاہد حامد کے قتل کا مقدمہ دوبارہ کھولنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

یہ درخواست صولت مرزا کی اہلیہ نگہت مرزا کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔

جمعرات کو ابتدائی سماعت کے بعد سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو کی سربراہی میں ڈویژن بینچ نے شاہد حامد اور ان کے گارڈ کے مقدمے کی تفصیلات طلب کی تھیں۔

تاہم جمعے کو معاملے کی سماعت کے بعد سندھ ہائی کورٹ کے بینچ نے کہا کہ چونکہ سپریم کورٹ اس مقدمے میں پہلے ہی فیصلہ سنا چکی ہے اس لیے وہ اس مقدمے کی سماعت نہیں کر سکتے۔

صولت مرزا کی بیوی کا موقف تھا کہ اگر سزا پر عمل درآمد کیا گیا تو انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہو سکیں گے۔

نگہت مرزا نے جمعرات کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’صولت مرزا جیسے لوگ مہرے ہیں جو دوسروں کے کہنے پر جرائم کرتے ہیں۔‘

انھوں نے چیف جسٹس اور وزیر اعظم پاکستان سے اپیل کی کہ پھانسی کی سزا پر عمل درآمد روکا جائے۔

خیال رہے کہ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت صولت مرزا کو 12 مئی کو پھانسی دینے کے لیے بلیک وارنٹ جاری کر چکی ہے جس کے بعد ایک بار پھر خاندان کی ویڈیو لنک کے ذریعے آخری ملاقات کرائی جا چکی ہے۔

صولت مرزا نے پھانسی پر عمل درآمد سے قبل ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین سمیت دیگر رہنماؤں پر شاہد حامد کے قتل کیس میں ملوث ہونے سمیت سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے تھے جس کے بعد ان کی سزا پر عمل درآمد روک دیا گیا تھا۔

وفاقی حکومت کے حکم پر صوبائی محکمہ داخلہ نے صولت مرزا کے بیان کی روشنی میں ایک مشترکہ تفتیشی ٹیم تشکیل دینے کا حکم جاری کیا تھا جس نے کچھ عرصہ قبل مچھ جیل میں صولت مرزا کا بیان بھی قلم بند کیا تھا۔