ذوالفقار مرزا کی ضمانت میں تین دنوں کی توسیع

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
سندھ ہائی کورٹ نے سابق صوبائی وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی حفاظتی ضمانت میں 9 مئی تک اضافہ کردیا ہے اور انہیں ہدایت کی ہے کہ دو روز کے اندر عدالت میں حاضر ہوں۔
چیف جسٹس فیصل عرب اور جسٹس ظفر احمد راجپوت پر مشتمل ڈویژن بینچ نے ریمارکس دیے ہیں کہ اگر ڈاکٹر مرزا نے اسلحے کی نمائش کی تو انہیں ریلیف نہیں دیا جائےگا۔
ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے وکیل اشرف سموں نے موقف اختیار کیا کہ ہائی کورٹ نے ڈاکٹر مرزا کی ضمانت منطور کرکے عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا لیکن اس کے باوجود پولیس نے مرزا فارم ہاؤس کا گھیراؤ برقرار رکھا اور انہیں باہر نکلنے نہیں دیا گیا، لہذا ضمانت میں توسیع کی جائے۔
اشرف سموں ایڈووکیٹ نے ساتھ میں یہ بھی استدعا کی کہ سیکریٹری داخلہ، آئی جی، ڈی آئی جی ، ایس ایس پی پی کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔
اسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل سندھ بیریسٹر مصطفیٰ مہیسر نے ڈاکٹر مرزا کی ضمانت میں توسیع کی مخالف کی اور موقف اختیار کیا کہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا موقع گنوا چکے ہیں۔’انھوں نے مقامی عدالت میں پیش ہونے کے بجائے اسلحے کی نمائش کی اور علاقے میں منی بغاوت جیسی صورتحال پیدا کردی ہے، اس لیے ان کی ضمانت میں توسیع نہ کی جائے۔‘
ڈاکٹر مرزا کے وکیل اشرف سموں کا دعویٰ تھا کہ ڈاکٹر مرزا ایک پر امن شہری ہے جس نے نہ تو بغاوت کی ہے اور نہ ہی اسلحے کی نمائش۔ انھوں نے کہا جن ہتھیاروں کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ ان کے محاظفوں کے ہیں اور ان محافظوں کی عدالت نے اجازت دی ہے۔
دوسری جانب سابق صدر آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور بھی بلا واسطہ اس جنگ میں شامل ہوگئی ہیں۔ انھوں نے ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی جانب سے سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے دائر درخواست میں فریق بننے کی گذارش کر دی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
سندھ ہائی کورٹ میں فریال تالپور کے اٹارنی ضیاالحسن لنجار نے ایک درخواست دائر کی ہے جس میں موقف اختیار کیا ہے کہ ڈاکٹر مرزا نے سکیورٹی کے لیے درخواست میں کئی بار فریال تالپور کا ذکر کیا ہے اور ان پر سنگین الزام عائد کیے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ان کا موقف ہے کہ وفاقی محکمہ داخلہ کی جانب سے فریال تالپور کی زندگی کو لاحق خطرے کی نشاندھی کے بعد انہیں یہ سکیورٹی فراہم کی گئی ہے جبکہ ڈاکٹر مرزا کی سکیورٹی واپس لینے سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
درخواست گذار کے مطابق فریال تالپور رکن قومی اسمبلی اور ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتی ہیں اور ڈاکٹر مرزا بے بنیاد الزام عائد کرکے ان کی ساکھ متاثر کر رہے ہیں ۔
بدین کے قریب واقع مرزا فارم کا پولیس نے بدھ کو بھی محاصرہ جاری رکھا۔ ان کے ساتھ نصف درجن کے قریب صحافی بھی موجود ہیں جو دن بھر صورتحال سے آگاہ کرتے ہیں جبکہ رات کو ٹاک شوز میں یہ ڈی ایس این جیز ڈاکٹر مرزا کا انٹرویو ٹیلی کاسٹ کرتی ہیں۔
دریں اثنا سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس سعید الدین ناصر ڈاکٹر مرزا کی لائیو کوریج روکنے کے لیے دائر درخواست مسترد کردی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی طارق مسعود آرائیں اور امداد پتافی نے یہ درخواست دائر کی تھی۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ڈاکٹر مرزا کے بیانات سے وہ متاثرہ فریق نہیں ہیں۔ اگر آصف علی زرداری اور فریال تالپور کو شکایت ہے تو ان کے لیے عدالت کے دروازے کھلے ہیں۔
اس سے پہلے طارق مسعود آرائیں نے اپنے وکیل کے ساتھ عدالت میں پیش ہوکر موقف اختیار کیا کہ ڈاکٹر مرزا ٹی وی چینلز کے پروگراموں میں آکر سابق صدر آصف علی زرداری اور فریال تالپور پر الزام عائد کر رہے ہیں جس سے لوگوں میں اشتعال پھیل سکتا ہے۔
ان کے مطابق پیمرا ایکٹ کے تحت ٹی وی چینلز ایسا کوئی پروگرام ٹیلی کاسٹ نہیں کرسکتے جس سے نفرت یا اشتعال پھیلنے کا خدشہ ہو۔ تاہم عدالت نے ان کی درخواست مسترد کردی۔







