سابق سپیکر فہمیدہ مرزا بھی میدان میں اتر آئیں

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان میں سابق سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نےکہا کہ بدین میں ایسا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے جس سے کسی بڑے نقصان کا اندیشہ ہے ۔
کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا کہا ہے کہ وہ مداخلت کریں اور غیر جانبدار آئی جی تعینات کیا جائے۔
ادھر سندھ پولیس نے بدین میں مرزا فارم ہاؤس کا گھیراؤ برقرار رکھا ہوا ہے۔ فہمیدہ مرزا کے شوہر اور سندھ کے سابق وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اپنے حمایتیوں کے ساتھ دوسرے روز بھی مرزا فارم ہاؤس میں موجود رہے۔
سندھ ہائی کورٹ نے ڈاکٹر ذوالفقار کو ضمانت قبل از گرفتاری منظور کی تھی جس کی مدت بدھ کی رات کو ختم ہوجائے گی۔
ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کا کہنا تھا کہ انھیں بدین کی عوام نے منتخب کیا ہے وہ کسی کی خواہش پر کیوں استعفیٰ دیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ اس مشکل وقت میں بدین کے ورکرز کا ساتھ دینے کے لیے بدین جا رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جو صورتحال اس وقت بدین میں پیدا کی گئی ہے اس کی مثال تو انھوں نے دور آمریت میں بھی نہیں دیکھی اور حکومت کو سابق وزیر داخلہ کے ساتھ ایسا رویہ زیب نہیں دیتا ہے ۔
ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کا کہنا تھا کہ وہ کافی دنوں تک خاموش رہی لیکن اب مجبوراً حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پریس کانفرنس کرنے پر مجبور ہوئی ہیں۔ ’صوبے کی پولیس سیاسی ہوگئی ہے، اگر بدین کے جیالوں کے گھروں پر چھاپے مارنے کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو پورا بدین گرفتاری دے گا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فہمیدہ مرزا کا کہنا تھا کہ مرزا فارم ہاؤس میں خوراک اور پانی تک لے جانے نہیں دیا جا رہا ہے اور ساری صورتحال کے ذمہ دار وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ ہیں۔
انھوں نے میں نے آئی جی سمیت سب کو خطوط لکھے کہ سکیورٹی فراہم کی جائے لیکن سکیورٹی نہیں دی گئی۔
دوسری جانب ایس ایس پی خالد مصطفیٰ کورائی نے فہمیدہ مرزا کے الزامات کو مسترد کیا۔
پولیس افسر کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر مرزا ضمانت پر ہیں لیکن انھیں مرزا فارم میں پچاس سے زائد مجرموں کی موجودگی کی اطلاع ہے جن کو گرفتار کرنا چاہتے ہیں۔ ایس ایس پی کورائی کا کہنا ہے کہ پولیس خون ریزی سے بچنے کے لیے پیش قدمی نہیں کر رہی ہے۔







