ذوالفقار مرزا کو قبل از گرفتاری ضمانت مل گئی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
سندھ ہائی کورٹ نے سابق صوبائی وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی ہے۔ درخواست میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ پولیس انہیں مرتضیٰ بھٹو کی طرح جعلی مقابلے میں ہلاک کرنا چاہتی ہے۔
سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس جنید غفار پر مشتمل ڈویژن بینچ کے روبرو ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے وکیل اشرف سموں نے درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ سابق وزیر داخلہ کی جانب سے کرپشن اور دیگر جرائم کے خلاف آواز بلند کرنے پر انہیں انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اس درخواست میں سندھ کے چیف سیکریٹری، آئی جی سندھ ، ڈی آئی جی جنوبی کراچی، ڈی آئی حیدرآباد، بدین، حیدرآباد، ٹنڈو محمد خان اور ملیر کے ایس ایس پی کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گذار کے مطابق بدین پولیس ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اور ان کے حامیوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں پر اتر آئی ہے۔ جب ڈاکٹر مرزا نے اس پر صدائے احتجاج بلند کی تو ان سمیت 56 ساتھیوں کے خلاف مقدمات درج کردیےگئے۔ پولیس نے ایف آئی آر کی نقول بھی فراہم کرنے سے انکار کیا ہے۔
عدالت کو آگاہ کیا گیا ہے کہ مقدمات دائر ہونے کے بعد بدین اور آس پاس کے اضلاع کی پولیس نے مرزا فارم ہاؤس کا گھیرا کرلیا ہے جو تاحال برقرار ہے۔ وہاں گزشتہ شب سے کسی کو نقل و حرکت کی اجازت نہیں ہے۔
ایڈووکیٹ اشرف سموں کے مطابق ڈاکٹر مرزا پہلے ہی یہ خدشہ ظاہر کرچکے ہیں کہ پولیس انہیں مرتضیٰ بھٹو کی طرح جعلی مقابلے میں ہلاک کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ وہ خود عدالت میں پیش ہوکر مقدمات کا سامنا کرنا چاہتے ہیں۔انھوں نے عدالت سے درخواست کی کہ پولیس کو ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی حفاظت کا حکم صادر کرے۔
سندھ ہائی کورٹ نے ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی اور انہیں منگل کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم جاری کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ بدین میں احتجاج اور تھانے میں ڈی ایس پی کے ساتھ تلخ کلامی کے بعد ڈاکٹر ذوالفقار مرزا پر انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت تین مقدمات درج کیےگئے ہیں۔
ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی اہلیہ اور سابق سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا نے بھی اپنے شوہر کی زندگی کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ایک بیان میں انھوں نے پولیس پر جانبداری کا الزام عائد کیا ہے۔







