’کہنے کی آزادی بہت مگر بعد کی محدود‘

 فریڈم ہاؤس نامی تنظیم کے تازہ اعدادوشمار کے مطابق دنیا کی صرف 14 فیصد آبادی کو آزادی میڈیا میسر ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن فریڈم ہاؤس نامی تنظیم کے تازہ اعدادوشمار کے مطابق دنیا کی صرف 14 فیصد آبادی کو آزادی میڈیا میسر ہے
    • مصنف, طاہر عمران
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

میڈیا کی آزادی کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان میں اس سال خاموشی خاموشی سی نظر آتی ہے اور تو اور سوشل میڈیا خصوصاً ٹوئٹر پر جہاں پاکستانی صحافیوں کے کروڑوں فالوورز ہیں کم ہی اس موضوع پر بات کی جا رہی ہے۔

جہاں اقوامِ متحدہ نے پریس کی آزادی کو عالمی استحکام کے لیے اشد ضروری قرار دیا وہیں فریڈم ہاؤس نامی تنظیم کے تازہ اعدادوشمار کے مطابق دنیا کی صرف 14 فیصد آبادی کو آزادی میڈیا میسر ہے یعنی دنیا کا ہر 7 میں سے ایک فرد۔

فریڈم ہاؤس کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گذشتہ ایک دہائی میں ایسے ممالک کی تعداد میں دگنا اضافہ ہوا ہے جہاں پریس کی آزادی میں تنزلی آئی ہے جبکہ ایسے ممالک کی تعداد میں دگنی کمی ہوئی ہے جہاں پریس کی آزادی کے حوالے سے بہتری آئی ہے۔

دوسری جانب صحافیوں کو حکومتی سطح پر مختلف طریقوں سے ہراساں کیا جانے کا سلسلہ جاری رہا۔ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کا کہنا ہے کہ صحافیوں کو ریکارڈ تعداد میں حکام کی جانب سے انسانی حقوق یا کرپشن جیسے موضوعات پر بات کرنے سے خاموش کرانے یا بدلہ چکانے کی غرض سے جیلوں میں بند کیا جا رہا ہے۔

2014 میں دنیا بھر میں 221 صحافیوں کو جیلوں میں بند کیا گیا جن میں مصر کی حوالے سے انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ مصری حکومت عدلیہ کی مدد سے آزاد میڈیا کا گلا گھوٹ رہی ہے۔

آج کے دن کے حوالے سے جاری ہونے والی رپورٹوں میں پاکستان کا ذکر ملے جلے الفاظ میں ہے مگر کیا حقیقت میں پاکستان میں پریس کی آزادی میں خاطر خواہ بہتری آئی ہے؟ کیا پاکستان میں صحافت ایک آسان پیشہ ہے؟

روزنامہ ڈان اسلام آباد کے نیوز ایڈیٹر حسن بلال زیدی کے مطابق ’پاکستانی صحافی کے سر پر لٹکتی دو تلواریں ہیں ایک غداری اور دوسرا توہینِ مذہب جس کے الزامات بہت آسانی سے لگا دیے جاتے ہیں اور بعد میں انجام ہم سب جانتے ہیں۔‘

پاکستان پریس کی ایک تاریخ ہے سنسرشپ کے خلاف جدوجہد کی اور حالیہ آزادی کے بعد 2014 سے یہ بدل رہا ہے : رضا رومی

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنپاکستان پریس کی ایک تاریخ ہے سنسرشپ کے خلاف جدوجہد کی اور حالیہ آزادی کے بعد 2014 سے یہ بدل رہا ہے : رضا رومی

تو اس ماحول میں جہاں آپ سے ’ملکی مفاد‘ اور مذہبی لحاظ سے مطابقت رکھتے ہوئے محتاط انداز میں صحافت کرنے کی توقع کی جاتی کیا اس پیشہ سے منسلک ہونا آسان ہے؟

سینئر صحافی اور کالم نگار وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ ’صحافت پاکستان میں ہمیشہ سے مشکل تھی مجھے تو کوئی دور یاد نہیں جب صحافت آزاد تھی اور صحافی کو کام کرنے میں آزادی تھی۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ گذشتہ دس بارہ سال سے یہ تاثر مل رہا کہ میڈیا آزاد ہے اور پریس کو ہر بات کہنے کی آزادی ہے سنسر شپ نہیں ہے کوئی ایڈوائس نہیں آتی ہے۔‘

تو پھر مسئلہ ہے کہاں؟

وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ ’حقیقت یہ ہے کہ زمانے کے جدید ہونے کے ساتھ سنسرشپ بھی ریمورٹ کنٹرول کے ذریعے ہونے لگی ہے۔ مخصوص لوگوں کو اداروں کے اندر نصب کیا جاتا ہے جو آنکھوں اور کان کا کام کرتے ہیں اور ضیا دور کی سیلف سنسرشپ ابھی بھی زندہ ہے۔‘

سیلف سنسر شپ پاکستان میں کوئی نئی بات نہیں ہے جہاں اخبار کے مدیر اپنے صحافیوں کو ’چند معاملات پر لکھنے‘ کے حوالے سے ایڈوائس دی، تو یہ کیسے ہوتی ہے؟

حسن بلال زیدی کہتے ہیں کہ ’سادہ بات یہ ہے کہ سیلف سنسر شپ کے آسان طریقے ہیں۔ ایک تو یہ کہ آپ صحافی کو محسوس کرواتے ہیں کہ جو خبر آپ کروا رہے ہیں یا آپ کے مطابق ہے وہ اسی کا خیال ہے اسی کی خبر ہے جس کی اونرشپ اس کی ہے۔‘

’دوسرا حساس معاملات پر یعنی فرقہ وارانہ اور اقلیتوں کے معاملات یا قوم پرستوں کے معاملات پر مدیر اور صحافی لکھنے سے کتراتے ہیں کیونکہ اس میں ایک تو محنت کرنی پڑتی ہے خبر کو معتبر کرنے میں دوسرا اس کے لیے آج کل زیادہ تر کام کرنے والے صحافی کی سمجھ بوجھ بھی اتنی نہیں ہے کہ وہ خبر کے تاریخی پسِ منظر پر عبور رکھتا ہو۔ تو ایسے صحافی کے لیے اونرشپ لینا بہت آسان ہے۔‘

مصنف اور اینکر رضا رومی جن پر گذشتہ سال قاتلانہ حملہ ہوا جس کے نتیجے میں ان کی ڈرائیور کی موت ہوئی اور وہ بال بال بچے نے کہا کہ ’پاکستان پریس کی ایک تاریخ ہے سنسرشپ کے خلاف جدوجہد کی اور حالیہ آزادی کے بعد 2014 سے یہ بدل رہا ہے۔ ان دنوں ہم براڈکاسٹ میڈیا میں سافٹ سنسر شپ کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں جبکہ آن لائن آزادئ اظہار کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔‘

’حالیہ قانون سازی کی تجاویز کے تناظر میں ایسا لگتا ہے کہ آن لائن اظہار رائے کی آزادی پر قدغن کی باری آنے والی ہے۔‘

سیلف سنسر شپ کے دوسرے پہلو کی جانب اشارہ کرتے ہوئے حسن بلال زیدی نے کہا کہ ’ایسے صحافیوں کو جو ایک فرقے یا قوم سے تعلق رکھتے ہوں انہیں اس کی کوریج کے لیے نہیں بھجوایا جاتا ہے کیونکہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ اس معاملے میں فریق ہیں حالانکہ وہ بہتر سمجھتے ہیں یعنی دیکھیں آپ کہ بلوچستان پر بات چیت بلوچ نہیں کر رہے کیونکہ انہیں میڈیا یا پریس جگہ دینے سے گریزاں ہے تو بات کرنے والے غیر بلوچ ہیں۔ مجھے بتائیں کہ کتنے معتبر اور بڑے اور سینئر صحافی ہیں جنہوں نے پاکستانی پریس میں بلوچستان پر لکھا ہے؟‘

تو سوال پھر وہی ہے کہ کیا پاکستان میں صحافت اور صحافی آزاد ہیں؟

وسعت اللہ خان کا جواب تھا کہ ’صحافی شاید آزاد ہیں، کہنے کی بہت آزادی ہے مگر کہنے کی بعد کی آزادی خاصی محدود ہے۔‘