’سعودی عرب نے پاکستان سے کوئی مطالبے نہیں کیے‘

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ یمن کے معاملے سعودی عرب اور پاکستان کے موقف میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے اور سعودی عرب نے پاکستان کو یمن کے معاملے پر خواہشات کی فہرست یا ’وش لیسٹ‘ نہیں دی ہے۔
سعودی عرب کا مختصر دورہ مکمل کرنے کے بعد وزیراعظم نواز شریف سینچر کو لندن پہنچے ہیں جہاں وہ برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون سے ملاقات کریں گے۔
یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سعوی عرب اور اُس کے اتحادی ممالک نے فضائی کارروائی کی تھی اور پاکستان سے بھی اس آپریشن میں عسکری تعاون کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
پاکستان کی پارلیمان نے مشترکہ اجلاس میں فیصلہ کیا تھا کہ یمن میں جاری لڑائی پاکستان شامل نہیں ہو گا۔
لندن پہچنے کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے صحافوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ سلامتی کونسل کی قرارداد کے مطابق یمن کا مسئلے کا حل نکالا جائے۔
انھوں نے کہا کہ ریاض کے مختصر دورے میں سعودی فرمانروا شاہ سلمان کو پاکستان کے موقف سے آگاہ کیا ہے۔
نواز شریف نے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مضبوط تعلقات ہیں اور سعودی عرب جیسے مخلص دوست نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کی مدد کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ اگر سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کا خطرہ لاحق ہوا تو پاکستان سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہو گا۔
نواز شریف نے کہا کہ ’سعودی عرب نے پاکستان کو کوئی وش لسٹ نہیں دی ہے، پاکستان یمن کے مسئلہ اقوام متحدہ کی قرار داد کے مطابق حل کرنا چاہتا ہے اور سعودی عرب بھی ایسا ہی چاہتا ہے ، یمن کے معاملے پر ہمار اور اُن کا موقف ہم آہنگ ہے۔‘
مبصرین کا کہنا تھا کہ یمن کے جنگ میں پاکستان کی جانب عسکری تعاون نہ کرنے پر سعودی حکام ناخوش ہیں۔
وزیراعظم نواز نے سعودی عرب پہچنے کے بعد ریاض کے شاہی محل میں شاہ سلمان سعودی وزیرِ داخلہ، وزیرِ خارجہ اور وزیرِ دفاع سمیت سینیئر حکومتی شخصیات سے ملاقاتیں کی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
دوسری جانب پاکستانی دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں کی مخالفت میں خاموش نہیں رہ سکتا اور سعودی عرب کی علاقائی خودمختاری کے خلاف کسی بھی جارحیت کا سخت جواب دے گا۔
پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے یہ تحریری بیان جمعے کی صبح جاری کیا گیا ہے۔
دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ سعودی حکام سے ہونے والی ملاقاتوں میں پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ کی علاقائی سالمیت اور استحکام کو لاحق بڑھتے ہوئے خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس بات کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر اور دہشت گرد گروہ خطے کو مزید غیر مستحکم نہ کر سکیں۔
پاکستان نے ایک بار پھر کہا ہے کہ سعودی عرب کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کا تحفظ پاکستان کی پالیسی کا حصہ ہے۔
سعودی عرب جانے والے پاکستانی وفد میں آرمی چیف اور سینیئر فوجی حکام سمیت، وزیرِ دفاع، امورِ خارجہ کے لیے وزیراعظم کے مشیر طارق فاطمی اور سیکرٹری خارجہ اعزازاحمدچوہدری بھی شریک تھے۔ بعد ازاں دونوں ممالک کے درمیان وفود کی سطح پر بھی مذاکرات ہوئے۔
پاکستان نے یمن میں جنگ سے متاثرہ افراد کو امداد پہنچانے میں تعاون کرنے کی پیشکش بھی کی ہے۔
تحریری بیان میں کہا گیا تھا کہ ’ یہ نہ صرف سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی فوجوں بلکہ یہ پوری بین لاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس قسم کے رجحان کو شکست دیں۔‘
سعودی قیادت سے ہونے والی ملاقاتوں میں پاکستانی حکومت نے یمن کے مسئلے کے پرامن حل کے لیے اپنا مثبت کرداد ادا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ اور اس سلسلے میں اقوامِ متحدہ کی 2216 ویں قرارداد کی حمایت بھی کی ہے۔
وزیراعظم نواز شریف برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی دعوت پر لندن پہنچے ہیں۔ جہاں وہ پہلی جنگِ عظیم کے دوران سلطنتِ عثمانیہ کی فوج کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے لاکھوں آرمینیائی باشندوں کی یاد میں صد سالہ دعائیہ تقریبات میں شرکت کریں گے۔







