’مہمند ایجنسی میں جھڑپ، دس شدت پسند ہلاک‘

آئی ایس پی آر کے مطابق مارے جانے والے شدت پسندوں کی لاشیں فوج کی تحویل میں ہیں

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنآئی ایس پی آر کے مطابق مارے جانے والے شدت پسندوں کی لاشیں فوج کی تحویل میں ہیں
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستانی فوج نے ملک کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں ایک جھڑپ کے دوران دس شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔

فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق یہ جھڑپ سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب تحصیل بیزئی میں پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے شونکڑئی میں ہوئی۔

فوج کا کہنا ہے کہ 10 سے 15 شدت پسندوں نے افغانستان سے سرحد پار کر کے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کی جس پر ان کا مقابلہ کیا گیا۔

بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ ایک گھنٹے تک جاری رہی۔

فوج کے مطابق اس جھڑپ میں دس شدت پسند مارے گئے جبکہ ان کے بقیہ ساتھی ان کی لاشیں چھوڑ کر واپس افغانستان کی جانب فرار ہوگئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق مارے جانے والے شدت پسندوں کی لاشیں فوج کی تحویل میں ہیں۔

شدت پسندوں کی شناخت یا ان کی تنظیمی وابستگی کے بارے میں بیان میں کچھ نہیں بتایا گیا۔

مقامی ذرائع کے مطابق مرنے والوں کی لاشیں ایجنسی ہیڈکوارٹر ہسپتال غلنئی منتقل کر دی گئی ہیں جہاں ان کا پوسٹ مارٹم کیا جا رہا ہے۔

ہسپتال ذرائع نے ہلاک شدگان کی عمریں 25 سے 30 سال کے درمیان بتائی ہیں۔

خیال رہے کہ مہمند ایجنسی کے پاک افغان سرحدی علاقے میں تشدد کے واقعات پہلے بھی پیش آتے رہے ہیں۔

یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ سرحدی علاقوں میں تعینات سکیورٹی فورسز پر افغان علاقوں سے حملے ہوتے رہے ہیں تاہم افغان حکومت ان حملوں سے لاعلمی کا اظہار کرتی رہی ہے۔

یہاں یہ امر بھی اہم ہے کہ مہمند ایجنسی میں فوجی آپریشن کی وجہ سے ببیشتر شدت پسند افغانستان کے سرحدی علاقوں کی طرف منتقل ہوگئے ہیں جہاں سے وہ اکثر اوقات داخل ہونے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

تاہم افغانستان میں نئی حکومت کے قیام کے بعد سے سرحدی علاقوں سے حملوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔