مہمند ایجنسی سے دو افراد کی لاشیں برآمد

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں پولیٹکل حکام کا کہنا ہے کہ بوریوں میں بند دو نامعلوم افراد کی لاشیں ملیں ہیں جنہیں تشدد کرکے ہلاک کیا گیا ہے۔
پولیٹکل انتظامیہ مہمند کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعے کی صبح مہمند ایجنسی اور ضلع چارسدہ کے سرحدی علاقے عقرب ڈاگ میں ایک پل کے نیچے دو افراد لاشیں پڑی ہوئی تھیں جنھیں بوریوں میں بند کیا گیا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ مقامی انتظامیہ نے دونوں لاشیں اپنی تحویل لے کر انھیں پوسٹ مارٹم کے لیے ایجنسی ہیڈ کوارٹر ہسپتال غلنئی منتقل کر دیا۔
اہلکار کے مطابق مرنے والے دونوں افراد کے جسموں پر تشدد کے نشانات بھی پائے گئے ہیں جس سے بظاہر لگتا ہے کہ انھیں تشدد کر کے مارا گیا۔
تاہم یہ بات معلوم نہیں ہوسکی کہ ہلاک ہونے والے کون اور اس کی وجوہات کیا ہیں۔
خیال رہے کہ مہمند ایجنسی میں اس سے پہلے بھی لاشیں ملنے کے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں۔
حالیہ دنوں میں سڑک کے کنارے سے شدت پسند تنظیموں سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کی لاشیں ملنے کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
چند ہفتے قبل مہمند ایجنسی میں لاشیں ملنے کے دو واقعات پیش آئے تھے جس پر تحریک طالبان پاکستان جماعت الحرار کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تحریک کے ترجمان احسان اللہ احسان نے سکیورٹی فورسز پر الزام عائد تھا کہ ان کی جیلوں میں قید ساتھیوں کو مبینہ طور پر ہلاک کیا جارہا ہے۔
اس کے علاوہ جماعت الحرار کی جانب سے حال ہی میں عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کے نام ایک خط بھی جاری کیا گیا ہے جس میں لاشیں ملنے کے واقعات پر خاموشی اختیار کرنے پر ان پر کڑی تنقید کی گئی ہے۔







