مہمند ایجنسی سے چار افراد کی لاشیں برآمد

مقامی لوگوں کے مطابق ایک شخص وہاں زخمی حالت میں موجود تھا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنمقامی لوگوں کے مطابق ایک شخص وہاں زخمی حالت میں موجود تھا
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں حکام کے مطابق چار افراد کی لاشیں ملی ہیں جن کی اب تک شناخت نہیں ہو سکی۔

چاروں لاشیں لوئر مہمند ایجنسی کے علاقے کڑپہ کے مقام سے ملی ہیں۔ پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے لاشوں کے ملنے کی تصدیق تو کی ہے لیکن اس بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔

پولیٹیکل ایجنٹ، اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ اور تحصیلدار کے دفاتر میں موجود اہلکار اس بارے میں کوئی بھی بات کرنے سے کترا رہے تھے۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ کڑپہ کے علاقے سے چار افراد کی لاشیں ملی ہیں جبکہ ایک شخص وہاں زخمی حالت میں موجود تھا۔ لوگوں کے مطابق ان افراد کا تعلق خیبر ایجنسی سے بتایا گیا ہے لیکن سرکاری سطح پر اس کی کوئی تصدیق نہیں ہو سکی ۔

ایک مقامی شخص نے بتایا کہ جس مقام سے لاشیں ملی ہیں وہاں بڑی تعداد میں لیویز اور ایف سی کے اہلکار پہنچ گئے تھے۔

خیبر پختونخوا اور پاکستان کے قبائلی علاقوں سے لاشوں کے ملنے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ مختلف علاقوں سے بوری میں بند لاشیں اکثر ملتی ہیں جن کی شناخت بھی ہو جاتی ہے لیکن ان واقعات میں ملوث مجرموں کو کم ہی پکڑا جاتا ہے۔

چند روز پہلے پشاور کے بڑے رہائشی علاقے حیات آباد میں بارانی پانی کے نالے سے ایک خاتون اور ایک لڑکے کی لاشیں ملی تھیں۔

پشاور ہائی کورٹ نے اگست 2012 میں بوری بند لاشوں کے ملنے پر از خود نوٹس لیا تھا اور اس بارے میں متعلقہ حکام سے کہا تھا کہ ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے۔ یہ نوٹس ہائی کورٹ نے مختلف اوقات میں 26 سے زیادہ لاشیں ملنے کے بعد لیا تھا۔

ہائی کورٹ نے یہ کیس اس سال فروری میں اس لیے بند کر دیا تھا کہ سپریم کورٹ نے تمام ہائی کورٹس سے کہا تھا کہ وہ از خود نوٹس نہیں لے سکتیں۔