مہمند ایجنسی میں سکولوں پر دوبارہ حملے

،تصویر کا ذریعہ
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی اور صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں چار مختلف واقعات میں مسلح افراد نے تین سرکاری سکولوں اور بنیادی صحت کے ایک مرکز کو بم دھماکوں میں تباہ کر دیا۔
سرکاری اہلکاروں کے مطابق یہ واقعات بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب پیش آئے۔
انھوں نے کہا کہ مسلح عسکریت پسندوں نے مہمند ایجنسی کی تحصیل یکہ غونڈ میں دروزگئی اور اس کے قریب واقع علاقے میں لڑکیوں اور لڑکوں کے دو سرکاری پرائمری سکولوں کو دھماکہ خیز مواد سے نشانہ بنایا۔
<link type="page"><caption> ’کچھ علاقے سکول جانے کے لیے نہایت خطرناک‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/10/121019_hrw_schools_pakistan_rh.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> پانچ سو سکول تباہ، چھ ہزار اساتذہ مجبور</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/08/120821_fata_school_special_rh.shtml" platform="highweb"/></link>
انھوں نے کہا کہ دو کمرے اور برآمدے پر مشتمل لڑکیوں کا ایک سکول مکمل طور پر تباہ ہوگیا جبکہ دوسرے سکول کو جزوی نقصان پہنچا۔
ان کے مطابق مسلح افراد نے تحصیل یکہ غونڈ ہی کے علاقے عقرب ڈاگ میں بھی بنیادی صحت کے ایک مرکز کو بارودی مواد سے نشانہ بنایا جس سے عمارت تباہ ہوگئی ہے۔
ادھر مہمند ایجنسی کے سرحدی حدود سے متصل ضلع چارسدہ میں بھی مسلح افراد نے لڑکیوں کے ایک پرائمری سکول کو بم دھماکے میں تباہ کر دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس اہلکاروں کے مطابق درجنوں مسلح افراد نے رات کی تاریکی میں شب قدر کے علاقے ماشو غوڑ میں پرائمری سکول کو دھماکہ خیز مواد سے نشانہ بنایا جس سے دو کمرے اور برآمدے پر مشتمل عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
تاہم ابھی تک کسی تنظیم کی طرف سے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی۔
مہمند ایجنسی میں گذشتہ کچھ عرصے سے شدت پسندی کا کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا ہے جس کی وجہ سے سکولوں اور سرکاری عمارتوں پر حملوں میں بھی کم کمی آگئی تھی۔ تاہم اس دوران سکیورٹی فورسز کے قافلوں پر چھوٹی نوعیت کے حملے ہوتے رہے ہیں۔
تقریباً ایک سال قبل مہمند ایجنسی میں تعلمی ادارے اور بنیادی صحت کے مراکز شدت پسندوں کے نشانے پر تھے جس میں ایک اندازے کے مطابق 150 سے زائد سکول اور سرکاری عمارات کو تباہ کیا جا چکا ہے۔ ان حملوں کی ذمہ داری وقتاً فوقتاً عسکری تنظیمیں قبول کرتی رہی ہیں۔ حکام کے مطابق ان حملوں کے باعث ہزاروں بچے تعلیم کے حصول سے محروم ہوچکے ہیں۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی میں قبائلی علاقوں میں قائم سکولوں کے حوالے سے تازہ اعداد و شمار پیش کیے گئے جس میں کہا گیا ہے کہ فاٹا میں پانچ ہزار سکولوں میں سے نو سو سکول ایسے ہیں جو امن و امان کی بگڑتی صورتحال یا کسی اور وجہ سے غیر فعال ہے۔







