خیبر پختونخوا: ڈیرہ اسماعیل اور ہنگو سے چار لاشیں برآمد

گذشتہ ہفتے پشاور میں دو لاشیں بھانہ ماڑی پولیس تھانے اور چمکنی تھانے کی حدود سے ملی تھیں
،تصویر کا کیپشنگذشتہ ہفتے پشاور میں دو لاشیں بھانہ ماڑی پولیس تھانے اور چمکنی تھانے کی حدود سے ملی تھیں

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے اضلاع ہنگو اور ڈیرہ اسماعیل خان سے چار لاشیں ملی ہیں۔

پشاور میں ہمارے نامہ نگار عزیزاللہ خان کے مطابق ہنگو سے ملنے والی تین لاشوں کی شناخت ہو گئی ہے جن میں سے دو سگے بھائیوں کا تعلق اہل تشیع سے بتایا گیا ہے جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان سے ملنے والی لاش کی اب تک شناخت نہیں ہو سکی ہے ۔

ہنگو پولیس کے مطابق شہر سے کوئی دو کلومیٹر دور میروبک بانڈہ سے دو نوجوانوں کی لاشیں ملی ہیں جن کے جسم پر فائر کے نشان تھے۔ دونوں لاشیں ایک ندی میں پڑی تھیں۔

<link type="page"><caption> پشاور میں پھر سے ناقابل شناخت لاشیں ملنے کے واقعات</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/10/131022_peshawar_dead_bodies_unkown_recovered_zz.shtml" platform="highweb"/></link>

پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ لاشوں کی شناخت طاہر حسین اور علیم حسین کے نام سے ہوئی ہے اور دونوں سگے بھائی تھے ۔ ان کی عمریں چوبیس اور چھبیس سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔

لاشوں کو سول ہسپتال ہنگو منتقل کر دیا گیا ۔ پولیس کے مطابق اب تک ان کے قتل کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ۔

ہنگو میں میروبک وانڈہ میں ایک ہوٹل کے قریب کھیتوں سے رحمان اللہ نامی شخص کی لاش بھی ملی ہے ۔ پولیس نے بتایا کہ لاش پر کوئی تشدد کے نشان نہیں تھے اور ایسا لگ رہا تھا کہ انھیں فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا ہو۔

اس کے علاوہ صبوبے کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں پرووا کے قریب دریائے سندھ سے کل اتوار کے روز ایک پچپن سالہ شخص کی لاش ملی ہے ۔ مقامی پولیس نے بتایا کہ لاش پر کوئی تشدد کے نشان نہیں تھے اور نا ہی اب تک اس کی شناخت ہو سکی ہے ۔

گذشتہ ہفتے پشاور میں دو لاشیں بھانہ ماڑی پولیس تھانے اور چمکنی تھانے کی حدود سے ملی تھیں۔ چمکنی میں نوجوان کی لاش نالے سے ملی تھی جس کا سر نہیں تھا اور جسم پرتشدد کے نشانات تھے۔

اسی طرح عید کے فوراً بعدایک لاش بھانہ ماڑی کی حدود میں رنگ روڈ سے ملی تھی جسےگولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔

گذشتہ سال اگست کے مہینے سے پہلے معمول سے بوری بند لاشیں ملنا شروع ہو گئی تھیں اور ایک ماہ میں اطلاعات کے مطابق بیس سے بائیس لاشیں ملی تھیں۔ پشاور ہائی کورٹ نے ان بڑھتے ہوئے واقعات پر از خود نوٹس لے لیا تھا ۔ ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت کے اعلیٰ حکام کو طلب کیا تھا جس کے کھ عرصہ بعد تک لاشوں کا ملنا جاری رہا۔

چند ماہ پہلے ان واقعات میں کمی واقع ہوئی تھی لیکن اب ایک مرتبہ پھر لاشوں کا ملنا شروع ہو گیا ہے ۔پشاور ہائی کورٹ میں لاپتہ افراد کے مقدمہ بھی زیر سماعت ہے جہاں سیکڑوں افراد ہر ماہ اپنے پیاروں کی تلاش میں عدالت پہنچتے ہیں۔