مشرف کے وارنٹ گرفتاری کے اجرا کا فیصلہ معطل

پرویز مشرف نے بطور فوجی صدر لال مسجد میں فوجی آپریشن کا حکم دیا تھا
،تصویر کا کیپشنپرویز مشرف نے بطور فوجی صدر لال مسجد میں فوجی آپریشن کا حکم دیا تھا
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی ہائی کورٹ نے لال مسجد کے سابق نائب خطیب غازی عبدالرشید کے مقدمۂ قتل میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی گرفتاری کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ کے اجرا کا فیصلہ مشروط طور پر معطل کر دیا۔

اسلام آباد کی ہی ایک مقامی عدالت کے ایڈیشنل جج واجد علی نے دو اپریل کو پرویز مشرف کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے پولیس کو انھیں27 اپریل کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

وارنٹ گرفتاری معطل کرنے کا حکم بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس نور الحق قریشی نے اس معاملے پر پرویز مشرف کے وکیل کی جانب سے دائر شدہ درخواست پر دیا۔

عدالت نے مشرف کے وکیل کو حلف نامہ جمع کروانے کی ہدایت دی کہ ان کے موکل سیشن جج کے حکم کی تعمیل میں 27 اپریل کو عدالت میں پیش ہو جائیں گے۔

جسٹس نور الحق قریشی کا کہنا تھا کہ اگر پرویز مشرف آئندہ سماعت پر مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت میں پیش نہ ہوئے تو ان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ موثر ہو جائیں گے۔

اسلام آباد کی مقامی عدالت نے اس سے پہلے دس مارچ کو سابق فوجی صدر کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے اور اُنھیں ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے بھی جمع کروانے کا حکم دیا تھا۔

2007 میں اسلام آباد میں واقع لال مسجد میں ہونے والے فوجی آپریشن میں مسجد کے نائب خطیب غازی عبدالرشید ہلاک ہوگئے تھے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشن2007 میں اسلام آباد میں واقع لال مسجد میں ہونے والے فوجی آپریشن میں مسجد کے نائب خطیب غازی عبدالرشید ہلاک ہوگئے تھے

تاہم دو اپریل کو پرویز مشرف کے عدالت میں پیش نہ ہونے پر اُن کے ضمانتی مچلکے بھی ضبط کر لیے گئے اور جج نے اُن کے قابل ضمانت وارنٹ کو ناقابل ضمانت ورانٹ میں تبدیل کر دیا تھا۔

یاد رہے کہ 2007 میں اسلام آباد میں واقع لال مسجد میں ہونے والے فوجی آپریشن میں مسجد کے نائب خطیب غازی عبدالرشید ہلاک ہوگئے تھے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے جولائی 2013 میں اسلام آباد پولیس کو ہدایت کی تھی کہ سنہ 2007 میں لال مسجد پر ہونے والے فوجی آپریشن سے متعلق سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف اگر کوئی جُرم بنتا ہے تو اُن کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔

لال مسجد اور اس سے ملحقہ جامعہ حفصہ میں سکیورٹی فورسز کے جانب سے آپریشن میں ایک سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اُس وقت کی حکومت کا کہنا تھا کہ مسجد میں شدت پسندوں نے پناہ لی ہوئی تھی جو کہ قانون کی عمل داری کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔