غازی عبدالرشید قتل کیس میں پرویز مشرف کے وارنٹ گرفتاری جاری

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے لال مسجد کے سابق نائب مولانا غازی عبدالرشید قتل کیس میں سابق صدر پرویز مشرف کے قابلِ ضمانت گرفتاری وارنٹ جاری کر دیے ہیں۔
منگل کو اسلام آباد کی مقامی عدالت کے ایڈیشنل جج واجد علی نے یہ حکم سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی جانب سے دائر کی گئی تین درخواستوں کے جواب میں سنایا۔
اپنے فیصلے میں عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف کوحکم دیا کہ وہ دو اپریل تک ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروائیں۔
ان تین میں سے ایک درخواست میں عدالت نے یہ استدعا کی تھی کہ متعلقہ عدالت کے پاس اس مقدمے کو سننے کا اختیار نہیں ہے۔ دوسری درخواست میں یہ کہا گیا تھا کہ چونکہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہے اس لیے عدالت اس مقدمے کو نہیں سن سکتی۔
جبکہ تیسری درخواست میں ملزم پرویز مشرف کی بیماری اور ان کی جان کو درپیش خطرات کے باعث انھیں عدالت میں پیشتی سے مستقل طور پراستثنا دینے کی بات کی گئی تھی۔
یاد رہے کہ 2007 میں اسلام آباد میں واقع لال مسجد میں ہونے والے فوجی آپریشن میں مسجد کے نائب خطیب مولاناغازی عبدالرشید ہلاک ہوگئے تھے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے جولائی 2013 میں اسلام آباد پولیس کو ہدایت کی تھی کہ سنہ 2007میں لال مسجد پر ہونے والے فوجی آپریشن سے متعلق سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف اگر کوئی جُرم بنتا ہے تو اُن کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔
لال مسجد اور اس سے ملحقہ جامعہ حفصہ میں سکیورٹی فورسز کے جانب سے آپریشن میں ایک سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اُس وقت کی حکومت کا کہنا تھا کہ مسجد میں شدت پسندوں نے پناہ لی ہوئی تھی جو کہ قانون کی عمل دراری کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







