باجوڑ ایجنسی میں سکول کے قریب دھماکہ، ایک لیویز اہلکار ہلاک

سرکاری ذرائع کے مطابق شدت پسندوں کے حملوں میں فاٹا میں 500 سے زائد سکول متاثر ہو چکے ہیں
،تصویر کا کیپشنسرکاری ذرائع کے مطابق شدت پسندوں کے حملوں میں فاٹا میں 500 سے زائد سکول متاثر ہو چکے ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں ایک سکول کے قریب ہونے والے ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں لیویز فورس کے ایک اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ پیر کی صبح باجوڑ ایجنسی کے علاقے بادان ماموند میں لڑکوں کے ہائی سکول سے 50 گز دور پیش آیا۔

انھوں نے بتایا کہ لیویز فورس کے ایک صوبیدار سلطان بخت لڑکوں کے ہائی سکول میں ڈیوٹی دینے جا رہے تھے کہ راستے میں نصب بم پھٹ گیا اور وہ ہلاک ہوگئے۔

دھماکے میں کسی کے زخمی ہونے یا سکول کو نقصان پہنچنے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

یاد رہے کہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق فاٹا میں اب تک 500 سے زائد سکول تباہ ہو چکے ہیں جن کی تعمیر نو کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

سکیورٹی فورز کی جانب سے قبائلی علاقے خیبر انجنسی میں بھی فوجی آپریشن جاری ہے۔

ادھر گذشتہ روز قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں سکیورٹی فورسز پر ہونے والے ایک حملے میں کم سے کم تین اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے تھے۔

ُ پاکستان میں دولتِ اسلامیہ کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے بی بی سی کو کسی نامعلوم مقام سے فون کر کے اس حملے کی ذمہ داری اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کر لی ہے۔

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ دولت اسلامیہ کی طرف سے پاکستان میں سکیورٹی فورسز پر ہونے والے کسی حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے۔