آپریشن مکمل، سکول کلیئر، 132 بچوں سمیت 141 ہلاکتیں

آرمی پبلک سکول حملے میں 141 ہلاکتیں ہوئیں، فوجی ترجمان
،تصویر کا کیپشنآرمی پبلک سکول حملے میں 141 ہلاکتیں ہوئیں، فوجی ترجمان

پاکستانی فوج کے مطابق پشاور کے آرمی پبلک سکول کو دہشت پسندوں سے کلئیر کروا لیا گیا ہے اور اس حملے میں 132 بچوں سمیت کل 141 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم باجوہ نے پشاور میں فوج کے زیرانتظام چلنے والے آرمی پبلک سکول میں منگل کی صبح شدت پسندوں کے حملے اور اس کے بعد سکیورٹی فورسز کی جانب سے کی جانے والی کارروائی کی تفصیلات سے میڈیا کو آگاہ کیا۔

ڈی جی آئی ایس پی ار کے مطابق دہشت گردوں کے حملے میں 132 بچے اور سکول کے سٹاف کے نو ممبران ہلاک ہوئے جبکہ 121 افراد زخمی ہوئے ہیں جو لیڈی ریڈنگ ہسپتال اور سی ایم ایچ پشاور میں زیر علاج ہیں۔

فوج کے ترجمان کے مطابق سکول میں سٹاف سمیت تقریباً 1100 بچے رجسٹرڈ تھے جن میں سے 960 کو ریسکیو کیا گیا ہے اور آپریشن مکمل ہو گیا ہے۔

آرمی پبلک سکول پشاور کا نقشہ دکھاتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ سکول کے کل چار بلاکس ہیں جن میں ایک آڈیٹوریم، ایک انتظامی بلاک، جبکہ دو تدریسی بلاکس ہیں۔

’دہشت گرد سکول میں پیچھے سے داخل ہوئے، سیڑھی کے ساتھ، اور سیدھے آڈیٹوریم میں آئے، آڈیٹوریم میں بچوں کا اجتماع تھا، اور کوئی امتحان اور لیکچر تھا، جب انھوں نے فائرنگ کی تو بچے یہاں سے بھاگے، باہر نکلنے کے دو دروازے تھے، انھوں نے بچوں کو اجتماع میں مارا، بعد میں جب ہمارے لوگ ریسکیو کرنے گئے تو انھوں نے بتایا کہ بچے خون میں بھیگے گراؤنڈ میں ایک دوسرے کے اوپر پڑے ہوئے تھے۔‘

آئی ایس پی آر کے ترجمان کے مطابق حملہ آوروں کی کل تعداد سات تھی جو خودکش جیکٹس اور ہھتیاروں سے لیس تھے اور انھوں نے سکول میں پچھلی جانب سے حملہ کیا۔ انھوں نے بتایا کہ 15 منٹ کے وقفے کے بعد کوئیک فورس پہنچ گئی تھی اور اس کے بعد ایس ایس جی کے کمانڈوز بھی وہاں پہنچے۔

انھوں نے بتایا کہ ایس ایس جی کے آپریشن میں ایک دہشت گرد کو آڈیٹوریم کے خارجی راستے پر مارا گیا جبکہ باقی چھ دہشت گردوں کو سکول کے انتظامی بلاک میں ہلاک کیا گیا۔

آپریشن کے دوران تین فوجی بھی زخمی ہوئے

،تصویر کا ذریعہepa

،تصویر کا کیپشنآپریشن کے دوران تین فوجی بھی زخمی ہوئے

’تین لوگ (حملہ آور) ایس ایس جی نے روشندانوں سے ہلاک کیے اور تین کو انھوں نے عمارت کے اندر جا کر ہلاک کیا۔‘

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ابھی حتمی طور پر کہنا مشکل ہے کہ دہشت گرد ایس ایس جی کی کارروائی میں ہلاک ہوئے یا پھر اپنے جسم پر موجود بارودی مواد کے پھٹنے سے ہلاک ہوئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آرکے مطابق شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں ایس ایس جی کے سات اہلکار زخمی ہوئے جبکہ زخمی ہونے والے فوج کے دو افسران شدید زخمی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پاکستانی فوج کے مطابق سکول کو مکمل طور پر کلئیر کروا کے انتظامیہ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ فوج کی جانب سے ابھی مزید اور آپریشنز کیے جائیں گے اس لیے فی الحال یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ حملہ آور گروپ کون تھا۔

’ ہم نے ان کی مانیٹرنگ کی، ہم اس چیز کو اچھی طرح سے جان چکے ہیں کہ یہ کون سا گروپ تھا، یہ کہاں سے بات کررہے تھے، آپریشن کہاں سے کنٹرول ہو رہا تھا، کہاں سے آپریٹ ہو رہا تھا، لیکن وہ تفصیلات ابھی آپ کو نہیں بتائی جاسکتیں، آپریشنل وجوہات کی بنا پر۔‘

ایک سوال کے جواب میں میجر جنرل عاصم باجوہ نے کہا کہ حملہ آور لمبی منصوبہ بندی کے ساتھ آئے تھے ان کے پاس راشن اور اسلحہ تھا۔ ’اگر ایس ایس جی کا آپریشن انھیں ایک بلاک میں محدود کرکے ختم نہ کرتے تو ان کے ارادے آگے خطرناک تھے۔‘

حملہ اوروں کا ٹارگٹ کون تھا؟

اس کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ یہ تو ابھی آئندہ دنوں میں بتایا جا سکے گا کہ اصل ٹارگٹ کیا تھا۔

’اس پورے آپریشن کے دوران ان کی طرف سے کوئی مطالبات سامنے نہیں آئے، آتے ہی جس طرح انھوں نے گولیاں چلائیں، فائرنگ کی اس سے فوری طور پر یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ وہ ان بچوں کو یرغمال بنانے کے بجائے مارنا چاہتے تھے۔‘

ڈی جی آئی اس پی آر نے بتایا کہ سکول میں کوئی بچہ نہیں ہے تاہم ابھی یہ خارج ازمکان نہیں کہ کوئی بچہ سکول میں کہیں اردگرد چھپا ہوا ہو۔

’آپریشن کے اختتام کے وقت انتظامی بلاک سے ایس ایس جی نے کل 23 بچوں کو بازیاب کروا بہت سے بچے روشندانوں میں چڑھ کرچھپے ہوئے تھے، باتھ رومز میں تھے، فرنیچر کے نیچے چھپے ہوئے تھے۔‘

ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ اس سکول میں حملے کے بارے میں کوئی پیشگی اطلاع نہیں تھی۔ کچھ عربی بھی بول رہے تھے تاہم ان کی قومیت کے بارے میں ابھی کچھ نہیں بتایا جا سکتا۔

فوج کے ترجمان نے پریس بریفنگ کے اختتام پر کہا کہ دہشت گرد اور ان کے لیے نرم گوشہ رکھنے والوں جنھوں نے انھیں ملک میں کہیں بھی جگہ دے رکھی ہے ان کے پیچھے جایا جائے گا۔

’ انٹیلیجنس کی بنیاد پر کی جانے والی کارروائیوں میں اب تک کل 3400 آپریشن کیےگئے ہیں جن میں تین ہزار سے زائد دہشت گرد پورے ملک سے پکڑے جا چکے ہیں، 75 کے قریب اہم دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں۔‘