اورکزئی ایجنسی میں زیرِ تعمیر کالج میں دھماکہ

قبائیلی علاقوں میں اب تک ساڑھے پانچ سو سے زائد تعلیمی اداروں کو تباہ کیا جاچکا ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنقبائیلی علاقوں میں اب تک ساڑھے پانچ سو سے زائد تعلیمی اداروں کو تباہ کیا جاچکا ہے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک زیرِ تعمیر کالج پر ہونے والے بم حملے میں کالج کا ایک حصہ تباہ ہوگیا ہے۔

پولیٹکل انتظامیہ اورکزئی کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ جمعہ کی صبح تقریباً چھ بجے کے قریب لوئر اورکزئی ایجنسی کے صدر مقام کلایہ میں بازار کے علاقے میں پیش آیا۔ انھوں نے کہا کہ نامعلوم افراد نے علاقے میں تعمیر ہونے والے لڑکوں کے کالج میں دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ دھماکے سے کالج کا ایک حصہ تباہ ہوگیا ہے جس میں برآمدہ اور چار کے قریب کمرے شامل ہیں۔اہلکار کے مطابق حملے کی وجہ سے کالج کی عمارت میں دراڑیں بھی پڑگئی ہیں۔ تاہم ابھی تک کسی تنظیم کی طرف سے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ اورکزئی ایجنسی میں اس سے پہلے بھی تعلیمی اداروں پر شدت پسند تنظیموں کی طرف سے متعدد بار حملے ہو چکے ہیں۔ تاہم حالیہ کچھ عرصہ سے ان واقعات میں کمی دیکھی جارہی ہے۔

اورکزئی ایجنسی میں کلایہ کا علاقہ انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے۔ اس علاقے میں شیعہ قبائل کی اکثریتی آبادی پائی جاتی ہے جن پر پہلے بھی خودکش اور بم حملے حملے ہوتے رہے ہیں۔ ان حملوں میں شیعہ قبائل کے متعدد افراد ہلاک ہوئے جبکہ ان حملوں کی ذمہ داری وقتاً فوقتاً کالعدم تنظیمیں قبول کرتی رہی ہیں۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کچھ عرصہ سے عمومی طورپر قبائلی علاقوں میں بھی تعلیمی اداروں اور سرکاری تنصیبات پر حملوں میں کمی آرہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بیشتر قبائلی ایجنسیوں میں فوج اور سکیورٹی فورسز کی طرف سے آپریشنز کے باعث وہاں سے شدت پسندوں کو نکال کر پاک افغان سرحدی علاقوں کی طرف دھکیل دیا گیا ہے۔

یہ امر بھی اہم کہ اس وقت تمام قبائلی علاقوں میں فوج یا سکیورٹی فورسز کے دستے تعینات ہیں اور ایسا کوئی علاقہ نہیں جہاں شدت پسند مستقل طورپر قابض ہوں۔