چارسدہ میں نجی سکول پر حملہ، ایک ٹیچر ہلاک

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, عزیزاللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، پشاور
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میںایک نجی سکول پر نامعلوم افراد نے دستی بم سے حملہ کیا جس سے ایک استانی ہلاک، ایک طالبہ اور سکول کی ملازمہ زخمی ہو گئی ہیں۔
پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ دستی بم سکول کے صحن میں پھینکا گیا۔ دھماکے کے وقت سکول میں چھٹی ہونے والی تھی۔
یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس سکول کو کیوں نشانہ بنایا گیا ہے۔
نجی سکول عسکری فاؤنڈیشن سکول اینڈ کالج شبقدر بازار کے قریب ایک دو منزلہ عمارت میں قائم ہے اور یہ علاقے کے معیاری سکولوں میں شمار ہوتا ہے۔
چارسدہ کے ضلعی پولیس افسر شفیع اللہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں لیکن اس وقت وہ کچھ نہیں بتا سکتے کہ آخراس تعلیمی ادارے کو کیوں نشانہ بنایا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ سکول کی انتظامیہ نے پولیس کو کبھی ایسی کوئی اطلاع نہیں دی کہ انھیں کسی قسم کی کوئی دھمکی موصول ہوئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس سے پہلے سکولوں پر حملوں میں ملوث ملزمان گرفتار کیے جاتے رہے ہیں اور بہت جلد اس حملے میں ملوث افراد کو بھی گرفتار کر لیا جائے گا ۔
چارسدہ اور اس کے قریبی علاقوں میں اس سے پہلے بھی سرکاری اور نجی سکولوں پر حملے اور دھماکے ہو چکے ہیں لیکن یہ پہلی مرتبہ ہے کہ سکول میں اس وقت دھماکہ کیا گیا جب بچے سکول میں موجود تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے پہلے بڑی تعداد میں سکولوں میں دھماکے اس وقت کیے گئے جب سکول بند ہوتے تھے یا سکول میں کوئی موجود نہیں ہوتا تھا۔
خیبر پختونخوا میں چند ہی ایسے واقعات پیش آئے ہیں جب سکولوں پر اس وقت حملے کیے گئے جب بچے سکول میں تعلیم حاصل کر رہے ہوں۔
ان میں ایک واقعہ اس سال جنوری میں ہنگو میں پیش آیا تھا جب سکول کی وردی پہنے ایک خودکش حملہ آور سکول میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا جب اعتزاز حسن نامی طالبعلم نے خودکش حملہ آور کو روک لیا تھا اور اس واقعے میں اعتراز احسن کی موت واقع ہو گئی تھی۔
اس کے علاوہ سکول کی گاڑیوں کے قریب بھی چند ایک حملے ہوئے ہیں جن میں جانی نقصانات ہوئے ہیں۔







