پنجگور: پرائیوٹ سکول پر حملہ، سٹاف روم نذرِ آتش

،تصویر کا ذریعہ
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ایران سے متصل ضلع پنجگور میں نامعلوم افراد نے ایک پرائیویٹ تعلیمی ادارے پر حملہ کر کے پرنسپل کے دفتر اور سٹاف روم کو لگا دی۔
پنجگور پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ یہ حملہ oasis نامی پرائیویٹ سکول پر کیا گیا۔
پولیس اہلکار نے بتایا کہ نامعلوم افراد سکول کے احاطے میں داخل ہو کر تھوڑ پھوڑ کے بعد پرنسپل کے دفتر اور سٹاف روم کو آگ لگا دی۔
پرائیویٹ سکولوں کی تنظم آل پنجگور پرائیویٹ سکولز ایسوس ایشن کے پریس سیکریٹری وقار آسکانی نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ یہ حملہ رات کے وقت کیا گیا۔
وقاص آسکانی نے بتایا کہ پرائیویٹ سکول پر نئے حملے کے بعد پنجگور میں دیگر پرائیویٹ سکولوں کو بند نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ والدین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو سکول بھیجیں گے۔
خیال رہے کہ پنجگور میں پرائیویٹ سکولوں کی تعداد 20 سے زائد ہے جن میں 25 ہزار سے زائد طلبا و طالبات زیرِ تعلیم ہیں۔
پنجگور میں پرائیویٹ سکولوں کو ’الفرقان الاسلامی‘ نامی تنظیم کی جانب سے دھمکی دی گئی تھی۔
اس تنظیم کی جانب سے ابتدا میں دھمکی آمیز خط بھیجا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ وہ لڑکیوں کو تعلیم نہ دیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خط میں والدین سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنی بچیوں کو سرکاری سکولوں میں داخل کرائیں۔
ان دھمکیوں اور حملوں کے بعد پنجگور میں رواں برس 13 مئی سے پرائیویٹ سکولز بند ہوگئے تھے تاہم تین ماہ بعد کے وقفے کے بعد رواں ماہ کے وسط میں ان سکولوں کو دوبارہ کھول دیا گیا تھا۔
ادھر حکمران جماعت نیشنل پارٹی کے رہنما ڈاکٹر یٰسین بلوچ کا کہنا ہے کہ پنجگور میں پرائیویٹ سکولوں کی تحفظ کے لیے مناسب اقدامات کیےگئے ہیں۔
انھوں نے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر مالک بلوچ اس سلسلے میں چند روز بیشتر پنجگور گئے تھے ۔
دوسری جانب تاہم پرائیویٹ سکولوں کی تنظیم کے پریس سیکریٹری وقار آسکانی حکومتی اقدامات سے مطمئن نہیں ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ہمیں تحفظ کے سسلسلے میں جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں وہ صرف باتوں کی حد تک محدود ہیں۔







