’پاکستان کا چہرہ اسامہ یا ضیا نہیں بلکہ بھٹو ہے‘

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ دنیا کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کا چہرہ اسامہ بن لادن یا ضیاالحق جیسے لوگ نہیں بلکہ ذوالفقار علی بھٹو جیسے لوگ ہیں۔
لندن میں سنیچر کو اپنے نانا اور پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی 36 برسی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ذوالفقار بھٹو نے ملک میں جمہوریت کی مضبوطی کے لیے اپنی جان دی۔
بلاول نے کہا کہ ملک کو آج جن مشکلات کا سامنا ہے وہ ان اقدامات کے خاتمے کا نتیجہ ہے جو ذوالفقار بھٹو نے اپنے دور میں اٹھائے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان میں سیاست کو ڈرائنگ روم سے نکال کر شہروں، قصبوں اور دیہات میں عوام تک پہنچایا اور ان کے بعد جنرل ضیا کا دور پاکستانی تاریخ کی ’سیاہ ترین دہائی‘ تھی۔
بلاول کا کہنا تھا کہ دنیا کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان دنیا کا خطرناک ترین نہیں بلکہ سب سے بہادر اور پرعزم ملک ہے۔
نامہ نگار ایمن خواجہ کے مطابق انھوں نے کہا کہ پاکستان کا اصل چہرہ ضیاالحق یا اسامہ بن لادن جیسے لوگ نہیں بلکہ ذوالفقار علی بھٹو، بینظیر بھٹو، سلمان تاثیر، شہباز بھٹی، ملالہ یوسفزئی، اعتزاز حسن اور آرمی پبلک سکول پشاور کے بچے ہیں جو دہشت گردی کا شکار ہوئے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ’یہ ہم پر لازم ہے کہ ہم وہ نظریاتی مقام اور ثفافتی ماحول واپس حاصل کریں جو شدت پسندوں کے ہاتھوں کھو دیا گیا ہے اور پاکستان کو ایسا ملک بنائیں جہاں مذہب روحانی سکون دے نہ کر تقسیم اور تفرقے کی بنیاد بنے۔‘
اسی تقریب سے خطاب میں سابق برطانوی وزیرِ خارجہ لارڈ اوئن کا کہنا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کی خارجہ پالیسی آج کے دور سے بھی مطابقت رکھتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے اپنی تقریر میں ذوالفقار علی بھٹو کی رہائی کے لیے کی جانے والی کوششوں کا ذکر کیا اور بتایا کہ ان کی بیٹی کے علاوہ ان کے ڈاکٹر نے انھیں جیل میں ذوالفقار بھٹو کی حالت کے بارے میں خطوط لکھے تھے۔
برطانوی پارلیمان کے رکن جارج گیلووے کا کہنا تھا کہ بھٹو ان کی نظر میں برصغیر کے سب سے بڑے لیڈر تھے اور انھوں نے ہی ان کی زندگی بدلی۔
گیلووے نے کہا کہ اگر ذوالفقار بھٹو کو سیاست کرنے دی جاتی تو ’پاکستان ہمیشہ کے لیے تبدیل ہو جاتا۔‘
انھوں نے پاکستان کی موجودہ حکومت پر بھی زور دیا کہ وہ یمن میں جاری جنگ کا حصہ نہ بنے اور خطے میں سعودی ’آمریت‘ کی حمایت نہ کرے۔







