بھٹو کی 35ویں برسی، مرکزی جلسہ گڑھی خدا بخش میں

اس مرتبہ بھی مرکزی جلسہ گڑھی خدا بخش ہیں میں منعقد ہو رہا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشناس مرتبہ بھی مرکزی جلسہ گڑھی خدا بخش ہیں میں منعقد ہو رہا ہے
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کے سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کی جمعہ کو 35ویں برسی منائی جا رہی ہے، جس کی مرکزی تقریب گڑھی خدا بخش میں منعقد ہو رہی ہے۔

گڑھی خدا بخش میں جلسے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو، سابق صدر آصف علی زرداری اور دیگر مرکزی رہنما خطاب کریں گے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت ایسے وقت میں اکٹھی ہو رہی ہے جب حکومت اور کالعدم تحریک طالبان کے مذاکرات جاری ہیں اور شام اور بحرین کو پاکستان کی عسکری مدد کی باز گشت ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو پچھلے دنوں کالعدم لشکر جھنگوی کی جانب سے مبینہ طور پر دھمکی دی گئی ہے، جس کی وفاقی اور پنجاب حکومت وضاحت اور تحقیقات کرچکی ہے۔

لاڑکانہ میں پیپلز پارٹی کی مجلس عاملہ میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ کسی دھمکی سے قیادت چھپ کر نہیں بیٹھے گی، وفاقی اور صوبائی حکومت اس دھمکی میں ملوث عناصر کو سامنے لائیں۔

گزشتہ شب مجلس عاملہ کے اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ بلاول بھٹو جلد پنجاب سمیت پاکستان کا دورہ کریں گے اور تنظیم سازی میں اپنا کردار ادا کریں گے، یاد رہے کہ بلاول بھٹو کی تمام سرگرمیاں ابھی تک سندھ تک محدود ہیں۔

ادھر ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر سندھ کی صوبائی حکومت نے عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔ اخبارات میں برسی اور جلسے کی بڑے پیمانے پر تشہیر نظر آتی ہے، تمام وزرا اور ارکان اسمبلی لاڑکانہ میں موجود ہیں۔

سکیورٹی وجوہات کے باعث اس بار جلسہ دوپہر کو منعقد کیاگیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے کے سات ہزار سے زائد اہل کار اس موقع پر تعینات کیےگئے ہیں، اس کے علاوہ پیپلز یوتھ کے بھی ہزار سے زائد رضاکار خدمات سر انجام دیں گے۔

یاد رہے کہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو فوجی سربراہ جنرل ضیاالحق کے دور حکومت میں چار اپریل 1979 کو قتل کے ایک مقدمے میں پھانسی دی گئی تھی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق حکومت میں اس وقت کے صدر آصف علی زرداری نے 2011 میں سپریم کورٹ کو ایک ریفرنس کے ذریعے گذارش کی تھی کہ بھٹو کیس کی دوبارہ سماعت کی جائے اور سزا پر نظر ثانی کی جائے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے اس معاملے کی سماعت کے لیے نو رکنی بینچ تشکیل دیا تھا یہ معاملہ ابھی تک زیرسماعت ہے، واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی یہ الزام عائد کرتی رہے کہ بھٹو کیس میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیےگئے۔