جمہوریت کا تختہ الٹنے پر یوم سیاہ

ذوالفقار علی بھٹو کو چار اپریل انیس سو اناسی کو پھانسی دی گئی تھی

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنذوالفقار علی بھٹو کو چار اپریل انیس سو اناسی کو پھانسی دی گئی تھی

پاکستان پیپلز پارٹی نے پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنے کے37 سال کی تکمیل پر یوم سیاہ منایا اور مختلف شہروں میں احتجاجی جلوس نکالے۔

پانچ جولائی سنہ 1977 کو فوجی جنرل ضیاالحق نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا اور چار اپریل سنہ 1979 کو ذوالفقار علی بھٹو کو راولپنڈی میں پھانسی دے دی گئی اور رات کی تاریکی میں گڑھی خدا بخش میں دفنا دیا گیا۔

<link type="page"><caption> ضیاالحق نے جنرل چشتی سے کہا مرشد مروا نہ دینا</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/05/110517_pak_afghan_1_rza.shtml" platform="highweb"/></link>

سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پیپلزپارٹی نے یوم سیاہ کے موقع پر ایک سیمنار منعقد کیا جس میں سابق گورنر پنجاب سردار لطیف کھوسہ سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔

اس کے علاوہ لاہور میں ہی پریس کلب میں پی پی پی ورکرز کا ایک پروگرام منعقد ہوا جس میں اعتزاز احسن نے شرکت کی۔

لاہور کا پاکستان پیپلز پارٹی کی تاریخ سے ایک بہت گہرا رشتہ ہے کیونکہ لاہور میں ہی پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر پر رکھی گئی تھی۔

ملک کی آمریت سے جان اس وقت چھوٹی جب ضیا الحق اپنے ساتھ ایک درجن سے زائد جرنیلوں سمیت ایک فضائی حاثے میں ہلاک ہوئے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنملک کی آمریت سے جان اس وقت چھوٹی جب ضیا الحق اپنے ساتھ ایک درجن سے زائد جرنیلوں سمیت ایک فضائی حاثے میں ہلاک ہوئے

پنجاب کے جنوبی شہر ملتان میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے احتجاجی جلوس نکلا اور آمریت کے خلاف اور جمہوریت کے حق میں نعرے بازی کی۔

جنرل ضیا 90 دن کے اندر انتخابات منعقد کر کے اقتدار کی عوام کو منتقلی کے وعدے پر مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بنے تھے تاہم انھوں نے دو مرتبہ عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کر کے انھیں منسوخ کردیا تھا۔جنرل ضیا نے پھر کئی مرتبہ ایسے وعدے کیے اور کئی مرتبہ مُکر گئے۔

اس کے بعد فروری سنہ 1985 میں آمریت کے سایے میں ملک میں پہلی بار غیر جماعتی پارلیمانی انتخابات منعقد ہوئے لیکن اس سے پہلے جنرل ضیا نے اقتدار میں آنے کے ساتھ ہی ملک سیاسی جماعتوں، مزدور اور طلبا تنظیموں کے خلاف سخت گیر کارروائی کا آغاز کیا اور مارشل لا کے ذریعے ان کو کچلنے کی کوشش کی۔

ملک کی آمریت سے جان اس وقت چھوٹی جب ضیا الحق اپنے ساتھ ایک درجن سے زائد جرنیلوں سمیت ایک فضائی حاثے میں ہلاک ہوئے۔