’غیرمہذب گفتگو پر بات کی مگر باضابطہ درخواست نہیں دی‘

،تصویر کا ذریعہepa
پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ حکومتِ برطانیہ سے کراچی کی صورتحال میں ایم کیو ایم کے کردار کے حوالے سے کوئی باضابطہ درخواست نہیں کی گئی ہے۔
جمعرات کو قومی اسمبلی سےخطاب کرتے ہوئے انھوں نے تصدیق کی کہ گذشتہ روز اسلام آباد میں برطانوی ہائی کمشنر سے ان کی ملاقات ہوئی تھی جس میں ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کی پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور رینجرز اور آرمی کے حوالے سے استعمال کی گئی غیر مہذب گفتگو بھی زیرِ بحث آئی۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس پر برطانوی حکومت سے کوئی باضابطہ درخواست نہیں کی گئی۔
وزیرِ داخلہ نے یہ بھی کہا کہ برطانوی ہائی کمشنر سے ایم کیو ایم کے سابق رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے معاملے پر بھی بات چیت ہوئی۔
تاہم انھوں نے ایوان سے درخواست کی کہ عمران فاروق کے کیس کو سیاسی جوڑ توڑ کا حصہ بنانے سے گریز کیا جائے یا اس کے سیاسی نتائج تلاش کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔
وفاقی وزیرِداخلہ نے بتایا کہ ایک ذمہ دار ملک کے طور پر یہ پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ عمران فاروق قتل کیس کے حوالے سے جو بھی ثبوت ہیں وہ فراہم کیے جائیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ بدھ کو وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی اسلام آباد میں برطانوی ہائی کمشنر فلپ برٹن سے ملاقات کے حوالے سے وزارتِ داخلہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’حکومت نے برطانیہ سے کہا ہے کہ اُن کے شہری الطاف حسین پاکستانی سکیورٹی فورسز کو بدنام کر رہے ہیں اور برطانوی حکومت انھیں بیان بازی سے روکنے کے لیے قانونی راستے استعمال کرے۔‘
وزارت داخلہ کے ذرائع نے بی بی سی کو یہ بھی بتایا کہ رینجرز حکام نے وزارت داخلہ کو خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر رینجرز کے چھاپے کے بعد الطاف حسین نے ایک نجی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں فوج کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے اور وزارت داخلہ اس سلسلے میں برطانوی حکومت سے بات کرے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس سے قبل نجی ٹی وی کے پروگرام میں الطاف حسین نے کہا تھا کہ ریاستی ادارے ایم کیو ایم کے خلاف ہیں اور جنھوں نے بھی ایم کیو ایم کے مرکز پر چھاپہ مارا وہ ’تھے‘ ہو جائیں گے۔
ایم کیوایم کے رہنما الطاف حسین نے نائن زیرو پر رینجرز کے چھاپے کی شدید مذمت کی تھی اور رینجرز کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
رینجرز حکام نے متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما الطاف حسین پر تضحیک آمیز گفتگو کرنے اور قتل کی دھمکیاں دینے کا الزام عائد کیا تھا اور الطاف حسین کے خلاف کراچی کے سول لائنز تھانے میں مقدمہ دائر کیا گیا۔
الطاف حسین کے خلاف مقدمہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کیا گیا ہے اور مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی دفعہ 7 اور تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 506 شامل ہے۔







