نیشنل گرڈ میں خرابی کے بعد بجلی کی جزوی بحالی شروع

یہ گذشتہ چند ہفتوں میں تیسرا موقع ہے کہ نیشنل گرڈ میں خرابی کی وجہ سے ملک کے بڑے حصے کو بجلی کی بندش کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
،تصویر کا کیپشنیہ گذشتہ چند ہفتوں میں تیسرا موقع ہے کہ نیشنل گرڈ میں خرابی کی وجہ سے ملک کے بڑے حصے کو بجلی کی بندش کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

پاکستان کے چاروں صوبوں میں بریک ڈاؤن کے چھ گھنٹے بعد بجلی کی فراہمی کا سلسلہ بتدریج بحال ہونا شروع ہوا ہے تاہم اب بھی ملک کا بڑا حصہ اس سے محروم ہے۔

نیشنل گرڈ میں خرابی کے باعث یہ بریک ڈاؤن سنیچر کی شب بارہ بجے کے قریب شروع ہوا تھا اور ملک کے 80 فیصد علاقے کی بجلی چلی گئی تھی۔

وفاقی وزیرِ پانی و بجلی عابد شیر علی کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں نصیرآباد ڈویژن میں دہشت گردوں کی جانب سے گڈو سے سبی جانے والی مرکزی ٹرانسمیشن لائن کی تباہی اس بلیک آؤٹ کی وجہ بنی ہے۔

سنیچر کو رات گئے پاکستان کے سرکاری ٹی وی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس ٹرانسمیشن لائن کی تباہی سے ملک میں بجلی کی ترسیل کا نظام اوور لوڈ ہوا اور بڑے علاقے کی بجلی چلی گئی۔

انھوں نے کہا کہ یہ گذشتہ دو ہفتوں میں نصیر آباد میں دہشت گردی کی یہ تیسری کارروائی تھی اور ان کی وزارت اب ایسے بحران کی صورت میں بجلی کی فراہمی کا متبادل نظام بھی وضع کر رہی ہے۔

ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے عابد شیر علی کا یہ بھی کہنا تھا کہ بجلی کی بحالی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے اور اتوار کی صبح پانچ سے چھ بجے تک تمام متاثرہ علاقوں میں بجلی آ جائے گی تاہم ان کا یہ دعویٰ صحیح ثابت نہیں ہو سکا ہے۔

عابد شیر علی نے کہا تھا کہ ساڑھے تین بجے تک اسلام آباد، کراچی، حیدرآباد اور کوئٹہ ریجن سمیت 40 فیصد علاقے میں بجلی بحال کی جا چکی ہے جبکہ فیصل آباد، لاہور، ملتان اور گوجرانوالہ ریجن میں بحالی کی کوششیں جاری ہیں۔

تاہم وفاقی وزیر کے دعووں کے برعکس صرف دارالحکومت اسلام آباد میں ہی اب تک بجلی کی سپلائی مکمل طور پر بحال نہیں ہوئی ہے۔

اس سے قبل ملک میں بجلی کی ترسیل کے قومی ادارے این ٹی ڈی سی کے ترجمان کرنل (ر) رانا سجاد نے بی بی سی اردو کے حسن کاظمی کو بتایا تھا کہ سنیچر کو نصف شب کے قریب گیارہ بج کر چھپن منٹ پر نیشنل گرڈ میں فنی خرابی کے باعث صوبہ پنجاب، خیبر پختونخوا اور کراچی سمیت زیریں سندھ کے بیشتر شہروں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق اس خرابی کی وجہ سے لاکھڑا، جامشورو، تربیلا، غازی بروتھا، منگلا، مظفرگڑھ اور گدو کے بجلی گھر متاثر ہوئے۔

کراچی کو بجلی فراہم کرنے والے ادارے کے الیکٹرک نے ٹوئٹر پر پیغام میں کہا ہے کہ نیشنل گرڈ میں ٹرپنگ کی وجہ سے ایک ایک کر کے گرڈ بند ہوتے گئے اور ملک بھر میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔

یہ گذشتہ چند ہفتوں میں تیسرا موقع ہے کہ نیشنل گرڈ میں خرابی کی وجہ سے ملک کے بڑے حصے کو بجلی کی بندش کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

آٹھ جنوری کو دھند اور نمی کی وجہ سے گدو اور دادو کی مین ٹرانسمیشن لائن ٹرپ ہونے کے باعث<link type="page"><caption> ملک کے بڑے حصے میں بجلی منقطع</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2015/01/150108_major_electric_breakdown_rh.shtml" platform="highweb"/></link> ہوگئی تھی۔

اس سے قبل دسمبر 2014 میں <link type="page"><caption> نیشنل گرڈ سے کراچی کو بجلی فراہم کرنے والی 500 کلو واٹ کی ٹرانسمیشن لائن ٹرپ کر گئی تھی</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/12/141220_karachi_national_grid_breakdown_rh" platform="highweb"/></link> اور کراچی میں آٹھ گھنٹے بجلی بند رہی تھی۔

پاکستان میں توانائی کا بحران گذشتہ کئی برس سے جاری ہے اور اس وقت سرد موسم کی وجہ سے بجلی کا زیادہ استعمال نہ ہونے کے باوجود ملک میں بجلی کی طلب اور رسد میں تقریباً چھ ہزار میگا واٹ کا فرق پایا جا رہا ہے۔

پانی کی کمی کی وجہ سے پن بجلی کی کم پیداوار اور فرنس آئل کی قلت کی وجہ سے تھرمل بجلی گھروں کے پوری استعداد پر کام نہ کرنے سے پنجاب اور بلوچستان کے بیشتر شہر آج کل روزانہ 12 گھنٹے سے زیادہ کی لوڈشیڈنگ کا شکار ہیں۔