نتائج قیامت خیز ہو سکتے ہیں: ہود بھائی

،تصویر کا ذریعہGetty
سندھ ہائی کورٹ نے کراچی شہر کے نزدیک چین کے تعاون سے تعمیر ہونے والے ایٹمی بجلی گھروں کے منصوبے پر کام روک دیا ہے۔ درخواست گزار پروفیسر ہودبھائی کا کہنا ہے کہ چین کے تعاون سے بننے والے اس منصوبے کے نتائج قیامت خیز ہو سکتے ہیں۔
سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کراچی کے قریب نئے پروگرام کے منصوبے کو عارضی طور پر روکنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے پروفیسر امیر علی ہودبھائی، شرمین عبید چنائے، ڈاکٹر اے ایچ نیّر اور عارف بیلگومی کی مشترکہ پیٹشن پر سندھ حکومت کے قانونی مشیر ایڈوکیٹ جنرل اور وفاقی حکومت کا موقف جاننے کے لیے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کیے ہیں۔
درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ جس ٹیکنالوجی، اے سی ٹی 1000 سے کراچی میں بجلی گھر تعمیر کیا جا رہا ہے اس کا کہیں تجربہ نہیں کیا گیا ہے۔
ماہر طبعیات ڈاکٹر امیرعلی ہودبھائی نے بی بی سی سے بات کر تے ہوئے بتایا کہ رواں سال کے شروع میں انھیں معلوم ہوا کہ کراچی کے نزدیک دس ارب ڈالر کی لاگت سے دو جوہری بجلی گھر تعمیر کیے جائیں گے۔انھوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ منصوبہ کراچی کے شہریوں پر ایٹمی تجربہ کرنے کے مترادف ہے۔
ہود بھائی نے کہا کہ اتنے گنجان آباد شہر کے نزدیک جوہری بجلی گھر کا منصوبہ دانشمندانہ اقدام نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ جو ٹیکنالوجی کراچی کے جوہری بجلی کے گھر کے لیے استعمال ہو رہی ہے اسے اس سے پہلے دنیا میں کہیں استعمال نہیں کی گئی ہے۔
ڈاکٹر ہود بھائی نے کہا کہ انھوں نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ اس منصوبے کو اس وقت تک روکا جائے جب تک کراچی کے شہریوں کے انخلا کا منصوبہ تیار نہیں کیا جاتا۔
انھوں نے کہا کہ ایسا جوہری بجلی گھر نہ صرف چین میں بلکہ دنیا بھر میں کہیں بھی نہیں لگایا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سونامی، زلزلہ یا دہشتگردی کی صورت میں کراچی کے لوگوں کے پاس کہیں جانے کا راستہ نہیں ہوگا اور جو تابکاری پھیلے گی اس سے بچنے کا امکان نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ جاپان کے شہر فوکو شیما میں ہونے والے جوہری پلانٹ کے حادثے کے بعد دنیا میں جوہری توانائی کی کوشش کم کر دی گئی ہیں۔ درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ اگر اس جوہری پلانٹ میں کوئی حادثہ ہوگیا تو 2 کروڑ کی آبادی والے کراچی کے شہریوں کو شدید خطرات لاحق ہو جائیں گے۔
درخِواست گزاروں نے ماحولیاتی بچاؤ کے ادارے سندھ اینوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کی رپورٹ کو عدالت میں چلینج کیا تھاجس میں دو جوہری بجلی گھروں کی منظوری دی گئی تھی۔
درخواست گزاروں نے پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی، پاکستان اینوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی اور سندھ کے ماحولیات اور متبادل توانائی کے محکمے کو فریق بنایا تھا۔







