’ایٹمی طاقت ایسی تو نہیں ہوتی‘

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, ذیشان ظفر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے 28 مئی 1998 کو جب جوہری ہتھیاروں کے تجربات کر کے ملک کو مسلم دنیا کی پہلی اور دنیا کی ساتویں عالمی جوہری طاقت بنانے کا اعلان کیا تو اس وقت ٹی وی پر عوام کے سڑکوں پر نکل کا جشن منانے کے مناظر نشر کیے گئے۔
ان دھماکوں کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ1947 میں پاکستان کے وجود سے آنے سے جہاں خطے میں ایک بڑی تبدیلی آئی وہیں آزادی کے تقریباً پچاس سال بعد جوہری دھماکوں کی صورت میں ملک میں ایک بڑی تبدیلی اور اس کے نتیجے میں معاشی اور اقتصادی ترقی کی نوید بھی سنائی تھی۔
وزیراعظم نواز شریف کی تقریر سے پہلے جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی دباؤ کے باوجود جوہری تجربات کرنے پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا تھا اور تجربات کے ردعمل میں بین الاقوامی اقتصادی پابندیوں کا حوالے دیے ہوئے کہا کہ تھا ’ہم ان مشکلات پر جلد ہی قابو پا لیں گے اور آپ پاکستان کو جلد ایک خوشحال، مضبوط اور طاقتور ملک کے طور پر دیکھ سکیں گے۔‘
ڈاکٹر عبدالقدیر کے فوری بعد وزیراعظم نواز شریف نے اپنے خطاب میں شاعر مشرق علامہ اقبال کے ’جذبہ خودی‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستان کے جوہری تجربات کے بعد اسی جذبے پر جوہری دھماکے کرنے کا فیصلہ کیا اور بقول ان کے اسی جذبے کے تحت ہم اقتصادی اور معاشرتی غلامی سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
جوہری دھماکوں کے بعد بین الاقوامی اقتصادی پابندیوں اور سعودی عرب سے ادھار پر تیل لینے کی حقیقت میں ملک کو اقتصادی محاذ پر ایشین ٹائیگر بنانے کا خواب دیکھا گیا۔
1998 کے بعد پاکستان میں حالات تیزی سے تبدیل ہوئے اور ہمسایہ ملک بھارت سے دوستی کی بات گارگل کے میدان جنگ میں انجام پذیر ہوئی۔ اس کے بعد جوہری ہتھیاروں سے مسلح فوج نے جنرل مشرف کی سربراہی میں اقتدار پر قبضہ کر لیا اور ساتھ ہی امریکہ میں نائن الیون حملے کے بعد افغانستان اور پاکستان عالمی توجہ کا مرکز بن گئے۔
پاکستان پر جوہری پھیلاؤ کے الزامات لگے اور ملک کے’جوہری ہیرو‘ ڈاکٹر عبدالقدیر نے جوہری راز دوسرے ممالک کو منتقل کرنے پر ٹی وی پر پوری قوم سے معافی مانگی۔ ملک میں شدت پسندی کے واقعات میں اضافے نے جوہری پروگرام کے شدت پسندوں کے ہاتھ لگنے کے خدشات نے جنم لینا شروع کیے اور اس کے بعد آج تک پاکستان مغربی حکام کی اس تشویش کو اس بیان سے رد کرتا ہے کہ ملک کا جوہری پروگرام محفوظ ہاتھوں میں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جوہری طاقت بننے پر ملک میں اقتصادی ترقی اور جوہری توانائی میسر ہونے کی صورت میں ملک کو وافر توانائی میسر ہونے کا خواب شاید سڑکوں پر جشن منانے والوں سمیت تمام عوام نے دیکھا ہو گا لیکن 16 سال بعد پاکستان کے مالی بجٹ کا انحصار عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے قسط ملنے پر منحصر ہوتا ہے اور ملک میں اقتصادی ترقی کی شرح گذشتہ کئی سالوں میں خطے میں سب سے کم ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
مہنگائی، بجلی، گیس کی قلت کے خلاف عوام سڑکوں پرتشدد احتجاجی مظاہرے کرتے نظر آتی ہے۔ علاقائی خودمختاری اور احترام کے تناظر میں اب ہمسایہ ممالک ایران، چین، بھارت اور افغانستان اپنے ہاں شدت پسندی کے واقعات پر پاکستان کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں اور بعض شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا الزام عائد کرتے ہیں۔
28 مئی 1998 کو وزیراعظم نواز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ’بھارت کے جوہری تجربات کا حساب آج ہم نے پانچ جوہری تجربات کر کے چکا دیا ہے۔‘
27 مئی کو بھارت کے نومنتخب وزیراعظم نریندر مودی کی تقریب حلف برداری اور ان سے ملاقات میں ممبئی حملوں کی تحقیقات تیز کرنے اور اپنی سرزمین شدت پسندی کے واقعات میں استعمال نہ ہونے کے مطالبے کے ساتھ وطن واپس پہنچنے کے ایک روز بعد وزیراعظم نواز شریف نے جوہری تجربات کی 16ویں سالگرہ کے موقع پر کہا:
’یہ کیسی جوہری طاقت ہے جہاں پر اندھیرے ہوں، علم کی بجائے جہالت ہو، آسودگی کم اور غربت زیادہ ہو، جہاں شدت پسندی ہو، اور امن کم اور بدامنی زیادہ ہو، میں یہ سمجھتا ہوں کہ ایٹمی طاقت ایسی تو نہیں ہوتی۔‘
ہائے اس ذود پشیمان کا۔۔۔۔۔۔۔







