جوہری تحفظ قومی سلامتی سے منسلک ہے:نواز شریف

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ جوہری تحفظ پاکستان کی انتہائی اہم ترجیح ہے کیونکہ یہ اس کی قومی سلامتی سے منسلک ہے۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق پیر کو ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں جوہری تحفظ پر بین الاقوامی سربراہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ملک ہے جو صرف ضرورت کی حد تک کم سے کم اور قابل اعتماد دفاعی قوت رکھنے کی پالیسی پر عمل کر رہا ہے۔
ہیگ میں جوہری سلامتی سے متعلق تیسری بین الاقوامی کانفرنس میں نواز شریف سمیت 53 ممالک کے سربراہان اور بین الاقوامی اداروں کے نمائندے شریک ہیں۔
اپنے خطاب میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ جوہری سلامتی سب کی قومی ذمہ داری اور عالمی ترجیح ہونی چاہیے اور پاکستان کا جوہری سلامتی کا نظام جوہری تحفظ، احتساب، سرحدوں پر کنٹرول اور تابکاری کی صورت میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہمارا جوہری مواد اور اثاثے محفوظ ہیں اور پاکستان کے جوہری اثاثوں کی حفاظت کے لیے تہہ در تہہ حفاظتی نظام موجود ہے جو کہ اندرونی و بیرونی اور سائبر حملوں سے دفاع کی صلاحیت رکھتا ہے۔‘
نواز شریف نے یہ بھی کہا کہ ’ہم معیشت کی بحالی کے لیے جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے اصولوں کے مطابق پرامن جوہری ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے عالمی تعاون کے خواہاں ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کو سپلائرز گروپ سمیت تمام عالمی معاہدوں پر شامل کیا جانا چاہیے۔
نواز شریف نے اجلاس کے باقاعدہ آغاز سے قبل امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے بھی ملاقات کی جس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے جان کیری نے کہا کہ امریکہ کو پاکستان کے جوہری پروگرام کی حفاظت پر اعتماد ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ ’ہم نے حال ہی میں یہ کہا تھا اور اب پھر کہتے ہیں کہ ہمیں پاکستان کی نیوکلیئر سکیورٹی پر اعتماد ہے اور انھوں نے اس پر واقعی بہت زیادہ کام کیا ہے اور وزیر اعظم نواز شریف یہاں اجلاس میں اس پر شاید بات بھی کریں۔‘
جان کیری کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکہ سٹریٹیجک ڈائیلاگ، دفاع اور استحکام سمیت جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سمیت دیگر امور پر ایک دسرے سے رابطہ میں ہے۔
جان کیری نے اپنے بیان میں یہ بھی بتایا کہ حال ہی میں دونوں ممالک نے واشنگٹن میں سٹریٹیجگ مذاکرات کیے تھے اور اب وہ وہاں پاکستان کے وزیرخزانہ کی آمد کے منتظر ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیر کو ہونے والی بات چیت میں افغانستان سے شدت پسندی اور انتہا پسندی کے خاتمے اور اس سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون پر بات ہوئی ہے۔
اس موقع پر پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا کہ گزشتہ نو ماہ سے ہم پاکستان کو درپیش مختلف چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کوشاں ہیں اور اس عرصے میں امریکی دوستوں کے ساتھ بہت نتیجہ خیز بات چیت ہوئی ۔ انھوں نے امریکی صدر سے واشنگٹن میں ہونے والی ملاقات کا حوالہ بھی دیا۔







