نواب مری:’بلوچ مسلح جدوجہد کے معمار‘

- مصنف, شیریں جُنبش
- عہدہ, اسلام آباد
پاکستان کے قیام پر اِس کے ساتھ ریاستِ قلات کے متنازع الحاق کے بعد جن چار شخصیتوں نے بلوچ سیاست کو نظریاتی اور مزاحمتی سمتیں دی ہیں اِن میں غوث بخش بزنجو، نواب اکبر خان بگٹی، عطاء اللہ مینگل اور نواب خیر بخش مری شامل ہیں۔
اپنی شخصیت، نظریات اور حکمتِ عملی کے لحاظ سے نواب خیر بخش مری بہت مختلف تھے۔ وہ ایک مہم جُو تھے۔
نینشل عوامی پارٹی سے منسلک رہنے کے باوجود انھوں نے پارٹی کی سیاست نہیں کی۔ وہ ایسی پارٹی سے وابستہ تو تھے جو پاکستان میں جمہوری سیاست پر یقین رکھتی تھی مگر عملاً وہ آزاد بلوچستان کی جدوجہد کا حصہ تھے۔
جب ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت بنی تو نیشنل عوامی پارٹی کو صوبہ خیبر پختونخوا (اُس وقت کے صوبہ سرحد) اور بلوچستان میں گورنر کے عہدے دینے کا معاہدہ ہوا۔
غوث بخش بزنجو نے خیر بخش مری کو گورنری کی پیشکش کی تو انھوں نے انکار کر دیا۔ وجہ یہی تھی کہ وہ شروع ہی سے پاکستانی ریاست کا حصہ نہیں بننا چاہتے تھے۔
نواب خیر بخش مری 1970 کی دہائی میں بلوچوں کی مسلح جدوجہد کے معماروں میں سے تھے۔
بعد میں ذوالفقار علی بھٹو نے نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی لگائی اور جن قائدین کو گرفتار کر کے حیدرآباد جیل میں ڈالا اُن میں نواب خیر بخش مری بھی شامل تھے۔
ذوالفقار علی بھٹو نے بےنظیر بھٹو کو اپنے آخری خط میں لکھا تھا کہ اگر کبھی نواب خیر بخش مری سے ملاقات ہو تو میری طرف سے معافی مانگ لینا۔ اُن سے کہنا کہ میں مجبور تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
2007 میں جب بےنظیر بھٹو جلاوطنی کے بعد پاکستان لوٹیں تو نواب خیر بخش مری کے بیٹے بالاچ مری کی فاتحہ پڑھنے اُن کے ہاں گئیں۔
اِس موقعے پر جنرل مشرف کی آمریت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بے نظیر بھٹو نے کہا کہ ’مری صاحب، ایسا ظلم آمریتوں میں ہوتا ہے۔‘ نواب خیر بخش مری نے طنزیہ جواب دیا کہ ’ہاں، آپ کے والد کے دور میں بھی یہی ہوا تھا۔‘
وہ پاکستان کے اتنے مخالف تھے کہ جب بے نظیر بھٹو نے فون پر رابطہ کرکے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تو انھوں نے جواب دیا کہ ’اگر تم پاکستان کی سابق وزیرِاعظم کے طور پر آنا چاہ رہی ہو تو مت آنا اور اگر سندھ کی بیٹی بن کر آنا چاہ رہی ہو تو خوش آمدید۔‘
نواب خیر بخش مری سیاست اور نظریے میں جتنے سخت گیر تھے، میل ملاپ اور گفتگو میں اُتنے ہی نرم خُو تھے۔ ہر جملے کو تول کر ادا کرتے تھے اور اصطلاحات کا استعمال سوچ سمجھ کر کرتے تھے تاکہ سیاسی معنی بدل نہ جائیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
اسی لیے طویل عرصے تک صحافیوں سے دور رہے کیونکہ انھیں لگتا تھا کہ صحافی اُن کی باتوں کے اصلی معنی سمجھ نہیں پاتے۔
وہ سخت گیر سوچ رکھنے والے شخص کے طور پر جانے جاتے تھے لیکن بات کرتے ہوئے انتہائی نرم لہجے میں بولتے تھے، گفتگو میں قطعیت نہیں تھی اور بات کا آغاز اِن جملوں سے کرتے تھے: ’میرے خیال میں، شاید میں غلط ہوں، میں سمجھتا ہوں، اگر میری بات درست ہو تو۔‘
ان کا غوث بخش بزنجو، نواب اکبر خان بگٹی اور عطااللہ مینگل کے ساتھ طویل عرصے تک اِس بات پر اختلاف رہا کہ اُنھیں آزاد بلوچستان کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے جس کا بہترین راستہ مسلح جدوجہد ہے۔
اسی لیے جب نواب اکبر بگٹی کو ہلاک کیا گیا اور بی بی سی نے نواب خیر بخش مری سے اُن کا ردعمل جاننا چاہا تو لہجے میں ٹھہراؤ کے ساتھ اپنے مخصوص انداز میں کہا کہ ’شاید اکبر خان کے فکری ارتقا کا مسئلہ تھا۔‘ معنی یہ کہ نواب اکبر بگٹی آخری عمر میں یہ بات سمجھے کہ مسلح جدوجہد آخری راستہ ہے۔
آج بلوچستان میں جو مسلح جدوجہد جاری ہے، اُس کی نظریاتی بنیاد نواب خیر بخش مری نے ڈالی۔ میں نے ایک ملاقات میں اُن سے پوچھا کہ ماضی اور آج کی مسلح جد و جہد میں فرق کیا ہے؟ تو انھوں نے کہا کہ اِس بار مسلح جد و جہد کی مدت طویل ہوگی۔
انھوں نے ویتنامی گوریلوں اور امریکی فوج کے درمیان لڑی جانے والی جنگ کا سائنسی تجزیہ کیا پھر اِس کا موازنہ مری گوریلوں اور پاکستان کی فوج سے کیا۔
انھوں نے گوریلوں اور فوجیوں کے قد کاٹھ، ایک گھنٹے میں لڑنے کی صلاحیت اور فاصلہ طے کرنے کے اعداد و شمار دیے پھر اِس نتیجے پر پہنچے کہ لڑنے میں بلوچ گوریلے پاکستانی فوجیوں سے بہتر ہیں۔
نواب خیر بخش مری کی سیاست تنقید کی زد میں رہی ہے۔ اُن کے اپنے بیٹے بالاچ مری میدانِ جنگ میں لڑے اور مرے، لیکن مسلح جد و جہد کے معمار اور داعی ہونے کے باوجود خیر بخش مری کبھی بھی خود نہیں لڑے۔
انھوں نے مریوں کو گولی چلانے کی ترغیب تو دی لیکن قلم چلانے کی نہیں۔ مارکسِسٹ ہوتے ہوئے بھی مراعات یافتہ زندگی گزاری اور نواب خیر بخش مری کی فکری اور نظریاتی جنگ کی قیمت انھوں نے خود کم مگر اُن کے قبیلوں اور ہم فکر ساتھیوں نے زیادہ ادا کی۔
وہ بیک وقت مارکسِسٹ بھی تھےاور بلوچ قوم پرست بھی۔ قبائلی بھی اور ایک لحاظ سے ’ریسِسٹ‘ یعنی نسل پرست بھی کہ اپنے ہم طبقہ پنجابیوں کو بھی پسند نہیں کرتے تھے۔
یہ چار صلاحیتیں اُن کی شخصیت میں گُھل مل گئی تھیں جس کے نتیجے میں پیچیدگیاں بھی پیدا ہوئیں۔
اِن تمام تضادات کے باوجود حقیقت یہ بھی ہے کہ نواب خیر بخش مری وفات تو پا گئے ہیں لیکن اُن کا فکری اور نظریاتی ایندھن شاید بلوچ گوریلوں کو طویل عرصے تک توانائی بخشے گا۔







