پولیو مہم میں فوج کی مدد حاصل کر لی گئی

ملک سے پولیو کو ختم کرنے کی مہم کو کامیاب بنانے کے لیے میاں نواز شریف کی حکومت نے فوج کو بھی اس مہم میں شریک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
فوج کے دفتر تعلقات عامہ کی طرف سے جاری ہونے ایک بیان میں کہا گیا کہ پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لیے فوج کو سویلین حکومت کی مدد کرنے کو کہا گیا ہے۔
بیان کے مطابق جمعرات کو راولپنڈی میں فوج کے ہیڈ کواٹر میں اس سلسلے میں ایک اجلاس ہوا جس میں پولیو مہم خاص طور پر اس مہم کو درپیش سکیورٹی چیلنجوں اور مختلف علاقوں تک رسائی کے حوالے سے تفصیلات طے کی گئیں۔
اس اجلاس میں عالمی ادارۂ برائے صحت، وفاقی اور خیبر پختونخوا کے علاوہ فاٹا سیکریٹریٹ کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔
اس اجلاس کو مہم کو پیش درپیش مسائل سے آگاہ کیا گیا۔
اس اجلاس میں مستقبل کی نسلوں کو اس موذی مرض سے بچانے کے لیے پولیو کے قطرے پلانے کی مہم کی اہمیت پر زور دیا۔
اجلاس کے شرکا نے اس سلسلے میں پولیو ورکر کی سکیورٹی سمیت تمام ضروری اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ پاکستان میں پولیو کے بڑھتے ہوئے کیسز کی بنا پر پاکستانیوں پر بیرونی ملک سفری پابندی لگ سکتی ہیں۔ اجلاس میں کہا گیا کہ پاکستان دنیا کے ان تین ملکوں میں شامل ہے جہاں اب بھی پولیو کی بیماری کو کو وسیع وائرل انفیکشن کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان اور خاص طور پر شورش زدہ قبائلی علاقوں میں شدت پسند، انتہا پسند اور قدامت پرست مذہبی حلقے اور قوتیں بچوں کو پولیو قطرے پلانے کی مخالفت کرتی رہیں ہیں۔
حکومت کی جانب سے قطرہ پلائے جانے کو اس وقت شدید نقصان پہنچا تھا جب ڈاکٹر شکیل آفریدی نے پولیو مہم کی آڑ میں ابیٹ آباد میں چھپے القاعدہ تنظیم کے رہنما اوسامہ بن لادن کے ڈی این اے نمونے حاصل کرنے کی مبینہ طور پر کوشش کی تھی۔







