قلات میں درجنوں بلوچ مزاحمت کار’ ہلاک‘

،تصویر کا ذریعہ
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع قلات میں فرنٹیئر کور نے پیر کو سرچ آپریشن کے دوران بلوچ عسکریت پسند تنظیموں سے تعلق رکھنے والے درجنوں عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
کوئٹہ میں فرنٹیئر کور بلوچستان کے ترجمان کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان مطابق یہ کارروائی ضلع قلات کے پہاڑی علاقے پاردو میں کی گئی۔
بیان کے مطابق جن عسکریت پسندوں کے خلاف کاروائی کی گئی ہے ان کا تعلق بی ایل اے سے تھا۔
اس سرچ آپریشن میں فرنٹیئر کور بلوچستان کی سپیشل آپریشن ونگ اور قلات سکاؤٹس نے حصہ لیا جس کی نگرانی انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور میجر محمد اعجاز شاہد نے براہ راست کی۔
بیان میں کہاگیا ہے کہ ’آپریشن کے دوران شرپسندوں کی جانب سے خودکار آتشی اسلحے، راکٹ لانچرز اور دستی بموں کا استعمال متواتر کیاجاتا رہا جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں 30 سے 40 شرپسند ہلاک ہوئے۔‘
ترجمان کے مطابق اس کارروائی کے دوران ایف سی کے 10جوان زخمی ہوئے۔
صوبائی وزیر داخلہ و قبائلی امور میر سرفراز بگٹی نے ایک پریس کانفرنس میں اس آپریشن کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی فورسز کے عملے نے یہ کارروائی ان کیمپوں کے خلاف کی جو کہ ٹرینوں پر حملوں، اغواء برائے تاوان، بم دھماکوں، سکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث تھے۔
انہوں نے کہا کہ اس کارروائی کے دوران دس فراری کیمپوں کو تباہ کر دیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فرنیٹیئر کور کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ان کیمپوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ، ایمونیشن، دھماکہ خیز مواد اور دیگر ساز و سامان قبضے میں لیاگیا ہے۔
صوبائی وزیر نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ آپریشن میں ہیلی کاپٹر استعمال نہیں ہوئے۔ البتہ صرف لاجسٹک سپورٹ کے لیے ہیلی کاپٹر استعمال ہوئے ۔
ان کا کہنا تھا کہ قلات ہی میں ہنگامی لینڈنگ کرنے والے ہیلی کاپٹر میں فنی خرابی پیدا ہو گئی تھی جس کا عملہ محفوظ رہا۔
دوسری جانب کالعدم بلوچ عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان نے نامعلوم مقام سے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ یہ کارروائی ان کے کیمپوں کے خلاف کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے کمانڈوز اتارے جا رہے تھے جن پر ان کے ساتھیوں نے حملہ کیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے میں ایک ہیلی کاپٹر تباہ جبکہ متعدد کمانڈوز ہلاک ہوئے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس کارروائی میں ان کی تنظیم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا بلکہ ان کے بقول فورسز نے ناکامی کے بعد اس علاقے میں عام آبادیوں کے خلاف کارروائی کی ہے۔







