خضدار سے مزید 11 مسخ شدہ لاشیں برآمد

بلوچستان کے کچھ علاقوں میں خضدار سے مسخ شدہ لاشیں ملنے کے خلاف ہڑتال کی گئی ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنبلوچستان کے کچھ علاقوں میں خضدار سے مسخ شدہ لاشیں ملنے کے خلاف ہڑتال کی گئی ہے
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے حکام کا کہنا ہے کہ ضلع خضدار میں توتک کے علاقے سے مزید 11 مسخ شدہ لاشیں برآمد کی گئی ہیں۔

اس دریافت کے بعد اس مقام سے ملنے والی لاشوں کی تعداد 13 ہو گئی ہے۔

ادھر پاکستان کے کمیشن برائے انسانی حقوق نے لاشوں کی برآمدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقتولین اور ان کے قاتلوں کی شناخت کو یقینی بنایا جائے۔

بلوچستان کے وزیرِ داخلہ سرفراز بگٹی نے پیر کو بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اب تک ملنے والی تمام لاشیں ناقابلِ شناخت ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت ان افراد کی شناخت کے لیے ان کے ڈی این اے ٹیسٹ کروائے گی۔

خضدار کے اعلیٰ حکام کے مطابق انھیں اس علاقے میں جانور چرانے والے چرواہوں نے جمعے کو لاشوں کی موجودگی کی اطلاع دی تھی۔

اس سے قبل بھی پشین سے بھی ایسی مسخ شدہ لاشیں ملی تھیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناس سے قبل بھی پشین سے بھی ایسی مسخ شدہ لاشیں ملی تھیں

حکام کا کہنا ہے کہ اس اطلاع پر سنیچر کو کارروائی کی گئی تو وہاں موجود صرف دو لاشیں اس قابل تھیں کہ انھیں اٹھایا جا سکے۔

حکام کے مطابق جو لاشیں اٹھائی گئی ہیں انھیں قتل کرنے کے بعد ان پر چونا ڈال دیا گیا تاکہ ان کی شناخت نہ ہو سکے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی پشین سے بھی ایسی لاشیں ملی تھیں جن کی شناخت چھپانے کے لیے ان پر چونا پھینک دیا گیا تھا۔

بلوچستان کے کچھ علاقوں میں خضدار سے مسخ شدہ لاشیں ملنے کے خلاف ہڑتال کی گئی ہے جس سے نظام زندگی متاثر ہوا ہے۔

پاکستان کے کمیشن برائے انسانی حقوق نے پیر کو جاری ہونے والے بیان میں کہا ہے کہ اس واقعے کے اصل حقائق کو جاننے اور مجرموں کو کٹہرے میں لانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں حالات سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں زیادہ خراب ہوئے تھے اور ان میں شدت اس وقت آئی جب ایک مبینہ فوجی آپریشن میں بلوچ قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی مارے گئے تھے۔

اس واقعے کے بعد سے صوبے میں مزاحمتی تحریک جاری ہے اور پرتشدد واقعات معمول بن گئے ہیں جن میں لوگوں کا لاپتہ ہونا اور اس کے بعد ان کی لاشوں کے ملنے کے واقعات نمایاں ہیں۔