’خفیہ اداروں کے کردار پر اعتراض‘

پاکستان کو دہشت گردی نے گھیر رکھا ہے اور ملک میں سلامتی پالیسی بنائی جا رہی ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنپاکستان کو دہشت گردی نے گھیر رکھا ہے اور ملک میں سلامتی پالیسی بنائی جا رہی ہے
    • مصنف, آصف فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کی مجوزہ داخلی سلامتی کی پالیسی ( نیشنل انٹرنل سیکیورٹی پالیسی) کی دستاویز ملک میں زیر بحث ہے۔ اس بحث میں شامل ماہرین اس پالیسی کے جس حصے کے بارے میں سب سے زیادہ معترض ہیں، وہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کو نئی پالیسی کے تحت ملنے والا نیا کردار ہے۔

گزشتہ ماہ قومی اسمبلی میں پیش ہونے والی اس پالیسی مسودے میں ملک میں کام کرنے والی تمام انٹیلی جنس ایجنسیوں کو وزارت داخلہ کے ایک ادارے نیکٹا کے تحت اکٹھا کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

بدھ کے روز اس پالیسی پر ہونے والے ایک مذاکرے میں شامل بیشتر ماہرین اس بات پر متفق نظر آئے کہ ملکی کے انٹیلی جنس ادارے، خاص طور پر وہ جن پر مسلح افواج کا کنٹرول ہے، کو نیکٹا کے ماتحت لانا مشکل ہو گا۔

اس مذاکرے کا اہتمام ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ کام کرنے والے تربیتی ادارے پلڈاٹ نے کیا تھا۔

مذاکرے سے خطاب کرتے ہوئے صحافی اور کالم نگار سلیم صافی نے کہا کہ ماضی میں بعض حکومتوں نے فوج کے زیر اثر کام کرنے والے بعض انٹیلی جنس اداروں کو سول حکومت کے ماتحت لانے کی کوشش کی تھی جس کا انہیں بھاری نقصان اٹھانا پڑا تھا۔

’اس بار بھی حکومت نے ابھی تک یہ طے نہیں کیا ہے کہ نیکٹا کے تحت انٹیلی جنس اداروں کا جو دفتر بنے گا اس کا سربراہ کوئی فوجی ہو گا یا سول افسر۔ یہ بہت اہم نکتہ ہے لیکن لگتا ہے کہ حکومت نے اس مسئلے پر فوج کے ساتھ مشاورت تک نہیں کی ہے۔‘

پشاور دہشت گردی کا سب سے زیادہ نشان بنا ہے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنپشاور دہشت گردی کا سب سے زیادہ نشان بنا ہے

سلیم صافی کا کہنا تھا کہ حکومت نے اس پالیسی کی تیاری کے سلسلے میں عدم مشاورت کا جو رویہ اختیار کر رکھا ہے اس کی وجہ سے اس پالیسی پر عملدرآمد کے امکانات کم ہو گئے ہیں۔

’فوج اور آئی ایس آئی اور بعض دیگر اداروں کے بارے میں فرض کیا گیا کہ وہ ایسا کچھ کریں گے۔ اگر وہ ادارے ایسا نہیں کرتے جیسا کہ وفاقی حکومت نے فرض کر رکھا ہے کہ وہ کریں گے، تو پھر اس پالیسی پر عملدرآمد ہونے یا اس سے متوقع نتائج حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔‘

سرکاری تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک اسٹڈیز کی سابق سربراہ اور پاکستان تحریک انصاف کی سیکرٹری اطلاعات شیریں مزاری نے کہا کہ داخلی پالیسی کے نام پر جو دستاویز تیار کی گئی ہے وہ ایک حکمت عملی کا حصہ تو ہو سکتی ہے لیکن اسے پالیسی دستاویز قرار نہیں دیا جا سکتا۔

’پالیسی ایک ایسی دستاویز ہوتی ہے جو مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جس میں معاشی پہلو بھی شامل ہوسکتا ہے۔ پالیسی طویل مدتی دستاویز ہوتی ہے جبکہ موجودہ داخلی پالیسی صرف موجودہ دور کے بارے میں ردعمل دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔‘

سابق وفاقی وزیر اور مسلم لیگی رکن قومی اسمبلی اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ داخلی سلامتی کی پالیسی ہو یا خارجہ پالیسی، جب تک گورننس بہتر نہیں ہوتی، کوئی پالیسی نتائج نہیں دے سکے گی۔

’جب تک گورننس بہتر نہیں ہوتی، جب تک اداروں کی صلاحیت بہتر نہیں ہوتی، پاکستان میں سلامتی کی صورتحال بہتر نہیں ہو سکتی۔‘