سکیورٹی پالیسی تو آ گئی لیکن سمجھ نہیں آئی

تقریباً 45 منٹ کی تقریر میں پس منظر پر ایک مرتبہ پھر وفاقی وزیر نے کوئی 37 منٹ لگا دیے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنتقریباً 45 منٹ کی تقریر میں پس منظر پر ایک مرتبہ پھر وفاقی وزیر نے کوئی 37 منٹ لگا دیے
    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

قومی اسمبلی میں منگل کے روز کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی تقریر کا میرے ایک دوست کو سننے کا اتنا تجسس تھا کہ کچھ نہ پوچھیں۔ اس کا بیٹا پشاور میں ایک دھماکے کی نذر ہوگیا تھا۔ آج وہ ایک مرتبہ پھر دل میں ایک معصومانہ خواہش اور امید دل میں لیے سیاسی حکومت کی جانب دیکھ رہا تھا۔

صحافی ہونے کے ناطے وہ فون پر مجھ سے منگل کی رات گئے بھی پوچھتا رہا کہ ’پالیسی میں کیا آنے والا ہے، کوئی امید کی جاسکتی ہے یا نہیں؟ تشدد رکے گا یا نہیں؟ حملہ آور کیفر کردار تک پہنچیں گے یا نہیں؟‘

اس کی ڈھارس بڑھانے کے لیے کہہ دیا کہ شاید اس مرتبہ سنجیدگی زیادہ ہے تو پیش رفت بھی زیادہ ہو۔ لیکن چوہدری نثار کی تقریر سن کر اس کو فون کرکے کچھ پوچھنے کی ہمت نہیں ہوئی۔

تقریباً 45 منٹ کی تقریر میں پس منظر بیان کرنے پر وفاقی وزیر نے کوئی 37 منٹ لگا دیے۔ لیکن آخری آٹھ منٹ میں دو باتیں ہی کام کی ملیں۔ ایک تو یہ کہ اس ملک کے قیام کے بعد سے ماشا اللہ 26 خفیہ ایجنسیاں قائم ہوگئیں لیکن ان میں رابطے کا فقدان کا باضابطہ احساس 67 برسوں اور تقریباً 40 ہزار ہلاکتوں کے بعد ہوا ہے۔

بعض لوگوں کو آج بھی 26 کے اعدادوشمار پر اعتراض ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دراصل چھ ایجنسیاں ہیں، باقی تو چھوٹے موٹے شاید کھوکھے ہیں۔ یہ نہیں معلوم کہ وزیر داخلہ نے چھ کو 26 پڑھ دیا یا واقعی انہیں یہی ’خفیہ معلومات‘ حساس اداروں نے دی ہے۔ جس طرح ہمیں آج تک نہیں معلوم ہوسکا کہ ملک میں کالعدم تنظیمیں 30 ہیں یا 60۔

بہتر تو یہ ہے کہ خفیہ ایجنسیوں کی تعداد واضح ہو جائے اور باضابطہ فہرست جاری کر دی جائے۔ میرے جیسے ’ٹیبل‘ تجزیہ نگاروں کا کم از کم بہت بھلا ہوگا۔

بھلے جتنے بھی خفیہ ادارے ہیں لیکن ایک اہم بات وزیر داخلہ کی تقریر میں تھی کہ ان اداروں میں رابطوں میں بہتری کے لیے مشترکہ انٹیلیجنس ڈائریکٹریٹ قائم کیا جائے گا۔ اگر واقعی 26 ایجنسیاں ہیں تو ان میں رابطے کا فقدان بھی کوئی عجوبے کی بات نہیں۔

خوف تو بس اس بات سے آ رہا ہے کہ کہیں اس نئے ڈائریکٹریٹ کے لیے کہیں نئی بھرتیاں نہ ہوں کیونکہ اس قومی خزانے پر، جس میں شاید دو چار آنے ہی رہ گئے ہیں، مزید بوجھ پڑے گا۔ اگر ٹیکس کی رقم سے یہ ادارہ بنتا بھی ہے تو امید یہ کی جانی چاہیے کہ اس کا حال بھی سکیورٹی کے لیے مہنگے کیمرے لگانے جیسا نہ ہو۔ یہ کیمرے لگ تو جاتے ہیں لیکن ان کیمروں کی وجہ سے آج تک شاید ہی کوئی حملہ آور گرفتار ہوا ہو۔ ہاں مختلف واقعات کی فوٹیج ملنے کی صورت میں ٹی وی چینلوں کا بھلا ہو جاتا ہے، اور بس۔

لیکن اس سلامتی کی پالیسی میں جو بات سب سے زیادہ تعجب کی تھی وہ یہ تھی کہ اس پر عمل درآمد کے لیے نہ کوئی ٹائم فریم دیا گیا، نہ کوئی ڈیڈ لائن ہے، حتیٰ کہ ’جلد از جلد‘ جیسی عمومی اصطلاح استعمال کرنے سے بھی گریز کیا گیا ہے۔

جس قسم کے حالات کا ملک کو سامنا ہے اس میں تو اس قسم کے ہر منصوبے کے لیے مدت کا واضح تعین لازمی تھا تاکہ تمام سرکاری ادارے جنگی بنیادوں پر اس پر کام کرتے۔ اب یہ پالیسی کب عملی شکل اختیار کرے گی اس کا انتظار آپ کو بھی ہے اور مجھے بھی۔ اہم دستاویز کی صورت میں دھوم دھام سے ایوان میں پالیسی تو آگئی لیکن سمجھ نہیں آئی۔