شمالی وزیرستان: دھماکے میں خواتین اور بچوں سمیت 6 ہلاک

،تصویر کا ذریعہReuters
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان ایجنسی میں ایک دھماکے میں تین حواتین اور دو بچوں سمیت چھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
یہ واقعہ شمالی وزیرستان کی تحصیل شوال میں پیش آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ دھماکہ ایک مکان کے اندر اس وقت ہوا جب مکینوں کو وہاں پر ایک غیر استعمال شدہ مارٹرگولہ ملا۔
مقامی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں اب تک کوئی ایسے آثار نہیں ملے کہ یہ حملہ دہشتگردی سے منسلک ہو یا پھر کسی شخص کو نشانہ بنایا گیا ہو۔
یاد رہے کہ شوال تحصیل شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ سے تقریباً 55 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔
ادھر صوبہ خیبر پختوانخواہ کے دارالحکومت پشاور شہر میں بھی بدھ کی صبح سرکی گیٹ کے قریب ایک دھماکہ ہوا ہے جس میں دو افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق اب تک اس دھماکے کی نوعیت کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا ہے۔
ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ گذشتہ کچھ عرصے میں پشاور اور صوبے کے دیگر شہروں میں اس طرح کے چھوٹے بم دھماکوں میں اضافہ ہوا ہے اور مقامی حکام کا کہنا ہے کہ ایسے دھماکوں میں اکثر بھتہ خود گروہ ملوث ہوتے ہیں۔
یاد رہے کہ حکومت سے رابطوں کے لیے کالعدم تنظیم تحریک طالبان کی کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے جمعے کو کمیٹی کے ارکان کی وزیرستان سے واپسی پر کہا کہ طالبان حکومت سے براہ راست مذاکرات کرنے پر تیار ہیں اور آئندہ چند دنوں میں طالبان اور حکومتی نمائندہ آمنے سامنے بیٹھ کر باقاعدہ مذاکرات شروع کر سکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مولانا سمیع الحق نے اکوڑہ خٹک میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ باقاعدہ مذاکرات شروع کرنے میں ان کی طرف سے کوئی تاخیر نہیں ہے اب یہ حکومت پر ہے کہ وہ مذاکراتی عمل کو جلد از جلد شروع کرنے کے لیے کیا کرتی ہے۔
مولانا سمیع الحق نے حکومت پر زور دیا کہ وہ طالبان کی طرف ان کی عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو رہا کرنے کے مطالبے کو جلد از جلد پورا کیا جائے۔







