خودسوزی واقعہ: متعدد پولیس افسران معطل اور گرفتار

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے مظفر گڑھ میں جنسی زیادتی کے کیس میں تحقیقات کے دوران کوتاہی برتنے پر متعدد پولیس اہلکاروں کو معطل کرنے اور حراست میں لینے کا حکم دیا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق وزیر اعلی پنجاب نے سنیچر کے روز مظفر گڑھ کا دورہ کیا اور خود سوزی کرنے والی آمنہ بی بی کے لواحقین سے ملاقات کی اور ان کے لیے پانچ لاکھ امداد کا اعلان کیا۔
شہباز شریف نے مبینہ طور پر ہونے والی جنسی زیادتی کے کیس کی تفتیش میں کوتاہی برتنے پر مقامی پولیس کے متعدد افسران کو معطل کیا۔ انھوں نے ڈی ایس پی، ایس ایچ او اور اس کیس کے تفتیشی افسر کو حراست میں لینے کا حکم جاری کیا۔
آر پی او ڈیرہ غازی خان عبدالقدیر قیوم اور ڈی پی او مظفر گڑھ عثمان اکرم گوندل کو تفتیشی افسران کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر معطل کر دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ وزیر اعلیٰ نے فوری طور پر تھانہ بیت میر ہزار کے تفتیشی افسر، ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کی گرفتاری کا حکم بھی دیا ہے۔
دوسری جانب پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے پنجاب اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ لڑکی کے ساتھ زیادتی نھیں ہوئی بلکہ زیادتی کو کوشش کی گئی تھی۔
ادھر پاکستان کے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے جنوبی پنجاب کے علاقے مظفر گڑھ میں مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا شکار ہونے والی لڑکی کی تھانے کے باہر خود سوزی کی وجہ سے ہلاکت پر از خود نوٹس لیتے ہوئے پنجاب پولیس کے سربراہ اور ضلعی پولیس افسر کو سترہ مارچ کو عدالت میں طلب کیا ہے۔
جمعے کو اس از خودنوٹس کی ابتدائی سماعت کے دوران عدالت میں پنجاب حکومت کی طرف سے کوئی نمائندہ پیش نہ ہونے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عدالت عظمی نے پیر کے روز سماعت پر متاثرہ لڑکی کی میڈیکل رپورٹ، اس مقدمے کا تفتیشی ریکارڈ اور ملزمان کی رہائی سے متعلق بھی تفصیلات مانگی ہیں۔







