یورپ:’ایک تہائی خواتین گھریلو تشدد کا شکار‘

،تصویر کا ذریعہScience Photo Library
یورپی یونین کے بنیادی حقوق کے ادارے کے ایک جائزے کے نتائج کے مطابق یونین میں شامل ممالک کی تقریباً ایک تہائی خواتین 15 برس کی عمر سے جسمانی یا جنسی تشدد کا شکار رہی ہیں۔
جائزے کے مطابق یہ تعداد چھ کروڑ 20 لاکھ کے لگ بھگ بنتی ہے۔
سروے میں کہا گیا ہے کہ یہ اس موضوع پر لیا جانے والا اب تک کا سب سے بڑا جائزہ ہے اور اس کے لیے 42 ہزار خواتین کے انٹرویو کیے گئے۔
جائزہ رپورٹ میں یورپی ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ گھریلو تشدد کو ایک نجی معاملہ سمجھنے کی بجائے ایک عوامی مسئلہ سمجھیں جبکہ جنسی طور پر ہراساں کرنے کے بارے میں بنائے گئے قوانین اور پالیسیوں پر نظرِ ثانی کی جانی چاہیے۔
اس سروے میں خواتین سے ان پر گھر اور کام کی جگہ ہونے والے جسمانی، جنسی اور نفسیاتی تشدد کے بارے میں سوالات کیے گئے اور بچپن میں جنسی ہراس اور تشدد کے بارے میں بھی پوچھا گیا۔
اس سے پتا چلا کہ ہر دس میں سے ایک خاتون کو 15 برس کی عمر سے کسی نہ کسی قسم کے جنسی تشدد کا سامنا رہا جبکہ ہر 20 میں سے ایک خاتون جنسی زیادتی کا شکار بنی۔
ان خواتین میں سے 22 فیصد پر جسمانی یا جنسی تشدد کرنے والا ان کا جیون ساتھی ہی تھا لیکن ان میں سے 67 فیصد نے گھریلو تشدد کے واقعات کے بارے میں کبھی پولیس کو مطلع نہیں کیا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کثرتِ شراب نوشی اور گھریلو تشدد کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جائزے کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی جبکہ 18 فیصد کے قریب خواتین کو 15 برس کی عمر سے تعاقب کرنے والے مرد حضرات سے واسطہ پڑا جبکہ 55 فیصد کا کہنا تھا کہ انھیں اکثر اپنے دفاتر میں جنسی طور پر ستایا جاتا ہے۔
یورپی یونین کے بنیادی حقوق کے ادارے کے ڈائریکٹر مورٹن جیرم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اس جائزے سے جو تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے وہ بہت سی خواتین کی زندگی میں بےحد تشدد کی ہے لیکن اس بارے میں حکام کو مطلع نہیں کیا جاتا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’خواتین پر تشدد یورپی یونین کے تمام رکن ممالک میں ہی ہوتا ہے جو کہ انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔‘
انھوں نے ان ممالک پر زور دیا کہ وہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اقدامات کریں کیونکہ اس کا روزانہ کی بنیاد پر معاشرے پر اثر پڑ رہا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں چلائی جانے والی مہمات میں خواتین کے ساتھ ساتھ مردوں کی شمولیت بھی ضروری ہے۔







