اسلام آباد: ’شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ‘

قومی اسمبلی میں اسلام آباد کی کچہری میں شدت پسندی کے واقعے پر دوسری روز بھی بحث جاری رہی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنقومی اسمبلی میں اسلام آباد کی کچہری میں شدت پسندی کے واقعے پر دوسری روز بھی بحث جاری رہی
    • مصنف, ایوب ترین
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کی قومی اسمبلی اور ایوان بالا میں اسلام آباد میں شدت پسندی کے واقعے پر حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسے دہشت گردی کے خلاف واضح پالیسی پر عمل شروع کرنا ہو گا۔

منگل کو ایوان بالا یعنی سینیٹ کے اجلاس میں شریک زیادہ تر ارکان نے پیر کو اسلام آباد کی کچہری میں ہونے والی فائرنگ اور خودکش دھماکوں کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو فوری طور پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ کرنا ہوگا۔

نیشنل پارٹی کے سربراہ میر حاصل بزنجو نے کہا کہ ’اگر دہشت گرد کہتے ہیں کہ ہم لوگوں کے گلے کاٹیں گے اور ہماری جانب سے پھر بھی کہا جائے گا کہ ہم آپ سے مذاکرات جاری رکھیں تو یہ ہماری ناکامی ہو گی اور اب یہ نہیں ہونا چاہیے۔‘

انھوں نے طالبان سے مذاکرات کو جاری رکھنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ’جتنے مذاکرات ہونا تھے وہ ہم نے کر لیے، اب فیصلے کی ایک لکیر کھینچنی ہو گی اور دہشت گردوں پر واضح کرنا ہو گا کہ جو بھی اس لکیر سے آگے آئے گا ریاست اس کو معاف نہیں کرے گی۔‘

’اگرحکومت اب بھی یہ توقع رکھتی ہے کہ قومی اتفاق رائے پیدا کیا جائے گا تو یہ ممکن نہیں ہے کیونکہ جب بھی حکومت دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کرےگی۔ تو مذہبی جماعتیں فوراً طالبان کے ساتھ کھڑے ہو جائیں گی۔

پیر کو اسلام آباد میں فائرنگ، خودکش دھماکوں میں سیشن جج سمیت 11 ہلاک ہو گئے تھے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنپیر کو اسلام آباد میں فائرنگ، خودکش دھماکوں میں سیشن جج سمیت 11 ہلاک ہو گئے تھے

بعد میں وفاقی وزیر داخلہ کی ایوان میں غیر حاضری پر حزب اختلاف کے سینیٹروں نے اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔ اس سے قبل وزیر مملکت برائے داخلہ امور بلیغ الرحمن نے حزب اختلاف کے ارکان کی طرف سے ان کی تقریر سننے سے انکار پر کہا کہ وزیر مملکت کا عہدہ آئینی ہے۔

انھوں نے کہا کہ سابق دور میں نائب وزیراعظم کا عہدہ پیدا کیا گیا تھا اور اس کا مقصد کسی کو خوش کرنا تھا لیکن وزیر مملکت کا عہدہ کسی کو خوش کرنے کے لیے نہیں بلکہ یہ ایک آئینی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کا واقعہ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔

دوسری جانب قومی اسمبلی میں دوسرے روز بھی اسلام آباد کی کچہری میں حملے کا واقعہ زیر بحث رہا۔

حزب اختلاف کی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما غلام احمد بلور نےحکومت پر زور دیا کہ تمام ہمسایہ ممالک سے تعلقات کو بہتر بنایا جائے۔

انھوں نے کہا کہ ہمیں یہ حق نہیں ہے کہ دوسرے ممالک میں جا کر وہاں اپنی مرضی کی حکومتیں بنائیں۔ اب یہ فیصلہ ہونا چاہیے کہ اپنے ملک کو ٹھیک کر کے اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے کیونکہ ماضی میں کبھی ہم افغانستان میں اپنی حکومت بناتے تھے تو کبھی لال قلعہ پر جھنڈا لگانے کا خواب دیکھتے تھے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس سے پہلے ایوان میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف موثر اقدامات اٹھانے کے لیے حکومت کو حزبِ اختلاف کی حمایت حاصل ر ہےگی۔

انھوں نے اسلام آباد کی سکیورٹی پر توجہ نہ دینے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ شاید حکومت اس خوش فہمی میں مبتلا تھی کہ مذاکرات کے بعد اسلام آباد زیادہ محفوظ ہوگیا ہے۔

بقول خورشید شاہ کے یہاں حالات زیادہ خطرناک ہیں اور حکومت کو کسی سخت قدم اٹھانے کا فیصلہ کرنا چاہیے بجائے کہ ہم جان چھڑانے والی باتیں دہرائیں کہ ان واقعات میں بھارت ملوث ہے۔

اس سے قبل وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے پاکستان کی خارجہ پالیسی پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور حکومت میں افغانستان میں مداخلت بند ہو چکی ہے کیونکہ پاکستان افغانستان میں قیامِ امن پر یقین رکھتا ہے:

’دوسرے ممالک کے معاملات میں عدم مداخلت اور اپنے داخلی معاملات میں کسی دوسرے ملک کی مداخلت برداشت نہ کرنے، اقتصادی ترقی، جغرافیائی محل وقوع سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے اور داخلی حالات بہتر بنانے کے بنیادی نکات شامل ہوں گے۔‘

ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کے بارے میں سرتاج عزیز نے ایوان کو بتایا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ ہم امریکی دباؤ پر اس معاہدے سے پیچھے ہٹ رہے ہیں، بلکہ ایران پر بعض پابندیوں اور مالی مشکلات کے باعث تاحال اس منصوبے کو عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکا۔

بقول سرتاج عزیز کے ایرانی صدر کی دعوت پر وزیراعظم نوازشریف جلد ہی ایران کا دورہ کریں گے۔