احرار الہند نے ذمہ داری قبول کر لی، طالبان کا اظہارِ لاتعلقی

اسلام آباد کچہری میں ہونے والے خود کش حملوں کے بعد پاکستان کی سول اور ملٹری قیادت نے ایک ہنگامی ملاقات کی ہے جب کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے بعد اس کی خلاف ورزی کو وہ ناجائز سمجھتے ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشناسلام آباد کچہری میں ہونے والے خود کش حملوں کے بعد پاکستان کی سول اور ملٹری قیادت نے ایک ہنگامی ملاقات کی ہے جب کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے بعد اس کی خلاف ورزی کو وہ ناجائز سمجھتے ہیں

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں سوموار کو ضلع کچہری پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری احرار الہند نامی ایک غیر معروف شدت پسند گروپ نے قبول کر لی ہے اور کہا ہے کہ وہ شریعت کے نفاذ تک اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔

اس تنظیم کے ترجمان نے بی بی سی کو فون کر کے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی اور کہا کہ وہ کبھی کالعدم تحریک طالبان کا حصہ نہیں تھے۔

تحریکِ طالبان پاکستان کی لاتعلقی

اس سے قبل ذرائع ابلاغ کو جاری کیے جانے والے تحریری بیان میں کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے کہا تھا کہ اسلام آباد حملے سے تحریکِ طالبان کا کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی ان کا کوئی ساتھی اس میں ملوث ہے۔

بیان میں کہا گیا ’ہم شریعت کے پابند ہیں اور شریعت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، جنگ بندی کے اعلان کے بعد اس کی خلاف ورزی کو غیر شرعی اور ناجائز سمجھتے ہیں۔‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے بعد ملک بھر میں موجود اپنے تمام ساتھیوں کو جنگ بندی کی مدت کے دوران ہر قسم کی عسکری کارروائیاں روکنے کا حکم جاری کیا جا چکا ہے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے کہا ہے کہ اگر ان کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے دوران کوئی بھی تشدد کا واقعہ رونما ہوگا تو ان کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔

تحریری بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کا اعلان اور شوریٰ کے اتفاق اور امیر کی مکمل تائید کے ساتھ کیا گیا ہے اور تحریک طالبان کا کوئی حلقہ یا مجموعہ امیر کے حکم اور تحریک کی پالیسی کی مخالفت نہیں کر سکتا۔

’بالفرض کسی واقعے میں ہمارے مجموعے کے ملوث ہونے کے ثبوت مل جائیں تو لامحالہ امیر کے حکم اور تحریک کی پالیسی کی مخالفت پر ضرور باز پرس کریں گے۔‘

کالعدم تحریک طالبان کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض عناصر ان کے خلاف پروپیگنڈا کر رہے ہیں ساتھ ہی ساتھ میڈیا بھی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

شاہد اللہ شاہد کا کہنا تھا: ’اسلام اور ملک دشمن عناصر تحریک طالبان کے واضح اعلان کے باوجود پروپیگنڈے کی سیاست کرنے میں مصروف ہیں اور پاکستان کا میڈیا بھی اس معاملے میں غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ ان واقعات کے پیچھے موجود ہاتھوں کو تلاش کرنا ہماری ذمہ داری نہیں ہے۔‘

پنجاب سے تعلق رکھنے والی مذہبی تنظیم، اہلسنت و الجماعت نے بھی اسلام آباد دھماکے کی مذمت کی ہے اور کہا کہ حکومت اور طالبان کے درمیان سیز فائر کے بعد یہ حملہ ایک گھناؤنا فعل ہے۔

سول اور ملٹری قیادت کی ہنگامی ملاقات

دریں اثنا اسلام آباد کچہری میں ہونے والے خود کش حملوں کے بعد پاکستان کی سول اور ملٹری قیادت نے ایک ہنگامی ملاقات کی ہے۔

وزیراعظم سیکریٹیریٹ کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اسلام آباد میں حملے کے بعد وزیراعظم، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے ملاقات کی جس میں وزیرِداخلہ چوہدری نثار علی خان ، وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار اور وزیرِ دفاع خواجہ آصف بھی شریک تھے۔

وزیرِاعظم ہاؤس یا آئی ایس پی آر کی جانب سے اس ملاقات کے بعد معمول کی پریس ریلیز جاری نہیں کی گئی۔

دیگر قوتیں

طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے کہا ہے کہ محفوظ مذاکرات کے لیے ضروری ہے کہ شورش زدہ علاقوں کو فوج کے عمل دخل سے آزاد کیا جائے اور اگر طالبان کے بیوی بچے اور بوڑھے افراد قید ہیں تو ان کی فوری رہائی ضروری ہے۔

سعودی عرب سے واپسی پر اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا سمیع الحق نے کہا کہ توقع ہے کہ آئندہ ایک دو روز میں حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کے ساتھ ملاقات ہو جائے گی۔

اسلام آباد میں پیر کی صبح پیش آنے والے پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ’اس واقعے سے یہ معلوم ہو گیا ہے کہ یہاں بہت سی قوتیں کار فرما تھیں اور ہر چیز طالبان کے کھاتے میں ڈالی جا رہی تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اب ایجنسیوں کا کام ہے کہ اس کے پیچھے کار فرما عناصر کو بے نقاب کریں۔ انھوں نے کہا کہ جو لوگ پاکستان میں امن اور استحکام نہیں چاہیں گے آس پاس کے پڑوسی ممالک ہوں یا امریکہ ہو بھارت ہو وہ سب اس عمل کو بڑی سختی سے سبوتاژ کریں گے۔

شورش زدہ علاقوں میں سے چند علاقوں کو امن زون یعنی فوج کی عملداری سے پاک کرنا ضروری ہے اور یہ دونوں کمیٹیوں کا مطالبہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کم ازکم ایک شہر بالکل پیس زون ہو تاکہ ہمارے لوگ بھی وہاں جا کر بیٹھ سکیں اور طالبان کے ساتھ بار بار مذاکرات ہوں، آنا جانا ہو گا اس لیے اس کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا اب وہاں ڈرون نہیں جگہ جگہ ناکے ہیں اور وہاں آنا جانا بہت مشکل ہے۔

مولانا سمیع الحق نے یہ بھی کہا کہ ’حکومت اور اس کی ایجنسیوں کو بھی تخربیی کاروائیوں کو بغیر کسی ثبوت اور تحقیق کے طالبان کے کھاتے میں ڈالنے سے گریز کرنا ہوگا بلکہ ہو سکے تو دونوں کو مل کر اس قسم کی کاروائیوں کا قلع قمع کرنا ہوگا۔‘