’اگر آپریشن کا فیصلہ ہوا تو آغاز میں دو ہفتے لگ سکتے ہیں‘

نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد ڈیڑھ سے دو ہزار ہو سکتی ہے:چوہدری نثار

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشننقل مکانی کرنے والوں کی تعداد ڈیڑھ سے دو ہزار ہو سکتی ہے:چوہدری نثار

پاکستان کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ تاحال قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کا فیصلہ نہیں کیا گیا اور فی الوقت صرف چنندہ اہداف پر کارروائی کی جا رہی ہے۔

جمعے کو قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ کوشش کی جا رہی ہے کہ ٹارگٹڈ حملوں میں بےگناہوں کا نقصان نہ ہو۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’نہ آپریشن ہو رہا ہے اور نہ ہی اس کا فیصلہ ہوا ہے،‘ اور فوجی آپریشن کرنا مقصود ہوا تو اس کا فیصلہ مشاورت سے کیا جائے گا۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق انھوں نے کہا کہ اگر آپریشن کرنے کا فیصلہ ہوا تو اس کے آغاز میں کم از کم دو ہفتے کا وقت لگ سکتا ہے۔

وزیرِ داخلہ نے کہا کہ آپریشن کے امکانات کی وجہ سے علاقے سے نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد ڈیڑھ سے دو ہزار ہو سکتی ہے جن کی امداد کے لیے سیفرون (ریاستی و سرحدی امور) کے وزیر کی سربراہی کمیٹی قائم کی جا چکی ہے۔

چوہدری نثار کا یہ بھی کہنا تھا کہ دو سے چار دن میں اس سلسلے میں پالیسی فریم ورک واضح ہو جائے گا اور آرمی چیف نے بھی بتایا ہے کہ نقل مکانی کرنے والے افراد کے سلسلے میں ان کے پاس ابتدائی خاکہ موجود ہے۔

خیال رہے کہ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے حال ہی میں خبر دی ہے کہ تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات میں ناکامی اور گذشتہ چند مہینوں میں ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی وارداتوں کے بعد پاکستانی حکومت شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن شروع کرنے والی ہے۔

امریکی اخبار نے پاکستانی حکام کے حوالے سے نام ظاہر کیے بغیر کہا ہے کہ ’اب یہ آپریشن کسی بھی دن شروع ہو سکتا ہے۔‘

اخبار نے پاکستانی حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے ’منصوبے‘ سے اعلیٰ امریکی حکام کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے جو ایک عرصے سے شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کا صفایا کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔