پشاور:’دہشت گردوں سے جھڑپ میں فوجی افسر ہلاک‘

شدت پسندوں نےخودکار ہتھیاروں سے فوج کے کوئیک ریسپانس سکواڈ پر حملہ کر دیا جس سے فوج کے ایک میجر جہانزیب موقع ہی پر ہی ہلاک ہوگئے۔

،تصویر کا ذریعہpakistan army

،تصویر کا کیپشنشدت پسندوں نےخودکار ہتھیاروں سے فوج کے کوئیک ریسپانس سکواڈ پر حملہ کر دیا جس سے فوج کے ایک میجر جہانزیب موقع ہی پر ہی ہلاک ہوگئے۔
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے قریب نیم قبائلی علاقے میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے مابین جھڑپ میں ایک فوجی افسر سمیت چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

پشاور میں ایک اعلیٰ فوجی اہلکار نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ یہ واقعہ منگل کو ایف آر پشاور کے علاقے بازار گئی میں شام چار بجے کے قریب پیش آیا۔

اہلکار کے مطابق فوج کو اطلاع تھی کہ مقامی شدت پسند تنظیم ’گیدڑ گروپ‘ سے تعلق رکھنے والے بعض جنگجو بازار میں دکانداروں سے بھتہ وصول کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فوج کی کوئیک رسپانس فورس کا ایک دستہ جب بازار میں پہنچا تو ان پر شدت پسندوں نے خودکار ہتھیاروں سے حملہ کر دیا جس سے فوج کے ایک میجر جہانزیب موقع ہی پر ہی ہلاک ہوگئے۔

اہلکار کے مطابق جوابی کارروائی میں تین شدت پسندوں کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔

انھوں نے کہا کہ واقعہ کے بعد علاقے میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے شدت پسندوں نے سکیورٹی فورسز کی گاڑی پر حملہ کیا جس میں ملتان سے تعلق رکھنے والے 31 سالہ میجر جہانزیب ہلاک ہوگئے۔

خیال رہے کہ یہ چوبیس گھنٹوں میں کسی سکیورٹی اہلکار کی ہلاکت کا دوسرا واقعہ ہے۔ پیر کی شب جنوبی وزیرستان کے علاقے لدھا میں سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر حملے میں ایک فوجی اہلکار ہلاک ہوگیا تھا۔

خیال رہے کہ ایف آر پشاور کا علاقہ پشاور شہر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور یہ علاقہ نیم قبائلی علاقے درہ آدم خیل کی سرحد تک پھیلا ہوا ہے۔

اس علاقے میں حکومتی عمل داری نہ ہونے کے برابر ہے جس کی وجہ سے ان مقامات سے اکثر اوقات سکیورٹی اہلکاروں پر حملے بھی ہوتے رہے ہیں۔