پشاور میں دھماکے، ہلاکتوں کی تعداد 11 ہو گئی

- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں ایک سینما گھر میں تین دستی بموں کے دھماکوں میں کم سے کم 11 افراد ہلاک اور 19 زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس کے مطابق دستی بم چینی ساختہ ہیں۔
دھماکے تین بج کر 40 منٹ پر ہوئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پہلا دھماکہ شمع سینما گھر کے چھوٹے ہال میں آگے کی نشستوں کے پاس ہوا جبکہ دوسرا اور تیسرا دھماکہ ہال کے وسط اور آخری نشستوں کے پاس ہوا۔
جس وقت دھماکے ہوئے اس وقت سینما گھر میں پہلا شو چل رہا تھا اور ایک سو سے زیادہ افراد موجود تھے۔ ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کی عمریں 20 سے 35 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد سینما کی انتظامیہ اور دیگر عملہ غائب ہے۔
ایسی اطلاعات ہیں کہ دھمکیوں کے بعد سینما گھروں میں سیکیورٹی انتظامات بہتر کیے گئے ہیں۔ شمع سینما میں داخلے کے لیے دو سے تین مقامات پر جامہ تلاشی لی جاتی ہے لیکن یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ حملہ آور دھماکہ خیز مواد کیسے اندر لے جانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
شمع سینیما پشاور کی فردوس مارکیٹ اور باچا خان مرکز کے قریب واقع ہے۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
ریسکیو 1122 کے کنٹرول روم انچارج کے مطابق دس لاشیں لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کی جا چکی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ زخمیوں میں سے اکثریت کی حالت نازک ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سی سی پی او پشاور اعجاز خان نے جائے وقوعہ پر میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ پہلا دھماکہ سہ پہر تین بج کر 40 منٹ پر ہوا۔
’ بم ڈسپوزل سکواڈ اور بم ڈسپوزل یونٹ کے شواہد کے مطابق دھماکوں میں تین چینی ساخت کے دستی بم استعمال کیے گئے۔‘
انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ سینما مالکان کو حفاظتی انتظامات بہتر کرنے کے لیے تحریری طور پر آگاہ کیا گیا تھا کیونکہ ایسی اطلاعات تھیں کہ شہر میں سینما گھروں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے ۔
’انھوں نے سینیما کی سکیورٹی کے لیے ہماری جانب سے تجویز کیے گئے اقدامات پر عمل درآمد کرنے کی ذمہ داری بھی لی تھی۔‘
سی سی پی او پشاور نے کہا کہ سینیما میں سی سی ٹی وی کیمرے تو لگے ہوئے ہیں تاہم یہ بھی ہدایت جاری کی گئی تھی کہ اندر جانے والے تمام افراد کو میٹل ڈیٹیکٹر کی مدد سے چیک کیا جائے۔
پشاور میں سینما گھروں میں داخلے کے لیے شخصی تلاشی لی جاتی ہے لیکن یہاں کوئی سکینرز یا دیگر آلات نصب نہیں کیے گئے جن سے معلوم کیا جا سکے کہ کوئی بارودی مواد تو اندر نہیں لے جا رہا۔
پشاور میں کوئی دو ہفتے پہلے بھی ایک سینما گھر پکچر ہاؤس میں اسی طرح دستی بم سے حملہ کیا گیا تھا جس میں پانچ افراد ہلاک اور بائیس زحمی ہو گئے تھے۔
ان دھماکوں کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ کی جانب سے قبول نہیں کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ حکومت ملک میں امن کے قیام کی غرض سے تحریکِ طالبان سے مذاکرات کر رہی ہے۔
حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے طالبان کی نمائندہ کمیٹی کے رکن پروفیسر ابراہیم خان نے شمع سینما ہیں ہونے والے دھماکوں کی شدید مذمت کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’میں ان دھماکوں کی شدید مذمت کرتا ہوں جن میں 11 لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اس واقعے کے ذریعے امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔‘
انھوں نے وہی ایسے واقعات میں ملوث ہو سکتے ہیں جو ملک میں امن نہیں چاہتے۔







