پشاور میں ’خودکش حملہ،‘ ہنگو میں اساتذہ پر فائرنگ

دھماکہ پشاور کے علاقے چمکنی کے قریب ہوا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشندھماکہ پشاور کے علاقے چمکنی کے قریب ہوا

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں پولیس کے مطابق ایک مبینہ خودکش دھماکے میں چار خواتین ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا ہی کے شہر ہنگو کے گاؤں کچ بانڈے کے پرائمری سکول میں موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے سکول میں چھٹی کے بعد تین اساتذہ کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔

پشاور میں ہونے والا چمکنی تھانے کے علاقے جمیل چوک میں ہوا جسے پولیس ممکنہ طور پر خودکش حملہ قرار دے رہی ہے۔

چمکنی پولیس کے ایس ایچ او احسان شاہ خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ مبینہ خودکش حملے میں چار خواتین ہلاک ہوئیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس علاقے میں موجود ایک قبرستان میں قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کر کے آنے والے ایک خاندان کے کسی فرد کا جنازہ تھا جس پر خودکش حملہ آور کا حملہ کرنے کا منصوبہ تھا۔

ایس ایچ او احسان شاہ کے مطابق جب پولیس نے اس شخص کا پیچھا کیا تو یہ ایک گھر میں گھس گیا جس گھر میں خواتین قرآن خوانی کر رہی تھیں اور اس کے بعد دھماکہ ہوا۔

ہنگو کے پرائمری سکول میں نامعلوم حملہ آوروں نے تین اساتذہ کو گولی مار کر ہلاک کر دیا جبکہ پولیس نے 15 مشکوک افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

ہنگو تھانے کے ایس ایچ او عظمت بنگش نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ دو بجے سکول میں چھٹی کے بعد ہنگو کے علاقے کچ بانڈہ کے پرائمری سکول میں پیش آیا۔

انھوں نے بتایا کہ ’چھٹی کے بعد جب سب بچے اپنے گھروں کو جاچکے تھے تو کچ بانڈہ کے بغیر چاردیواری والے پرائمری سکول میں کھڑے تین اساتذہ پر موٹر سائیکل سواروں نے پستول سے فائرنگ کی۔‘

انھوں نے بتایا کہ سول ہسپتال ہنگو نے تینوں اساتذہ کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔ ایس ایچ اور کا کہنا ہے کہ اب تک سرچ آپریشن کے دوران 15 افراد کو حراست میں لے لیاگیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ نامعلوم حملہ آوروں کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ وہ سکول کے قریب واقع مہاجر کیمپ کی جانب فرار ہوئے ہیں۔

’اس وقت علاقے میں سرچ آپریشن کیا جا رہا ہے اور حملہ آوروں کے فرار کے راستے کی نشاندہی کے بعد مہاجر کیمپ اور اس کے نواح سے 15 مشکوک افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔‘

اس سے قبل منگل چار فروری کو پشاور کے قصہ خوانی بازار میں دھماکے کے نتیجے میں پولیس حکام کے مطابق آٹھ افراد ہلاک اور 42 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دھماکہ قصہ خوانی بازار میں اہل تشیع کے اکثریتی علاقے کوچہ رسالدار میں واقع ایک ہوٹل کے قریب ہوا۔

یاد رہے کہ کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان نے ایک بیان میں پشاور میں ہونے والے اس دھماکے سے لاتعلقی کا اعلان کیا تھا۔